2تیمتھیس باب 1 ُوع میں ہے۔ ُول ہے ُسس زندگی کے وعدہ کے سمطا یِق جو مُییح یِ س ُوع مُییح کا ر س 1پوُسس جو سُدُ کی مرضی ُے یِ س عیُی کی طرف ُے فضل ،رحمت ُور ُلمتی۔ 2میرے پیارے ِیٹے تیمتھیس کو ُ:دُ ِاپ ُور ہمارے ُدُوند مُیح ی 3ممیں سُدُ کا س ُکر کرتا ہ سوں جس کی ُدمت ممیں ُپنے ِاپ دُدُ کی طرف ُے ُاُص ضمیر کے ُاتھ کرتا ہوں ،کہ ممیں ُپنی دعاؤں میں رُت دن تیری ِاد کرتا ہوں۔ 4آپ کو دِکھنے کی ِڑی آرزو ہے ،آپ کے آنُوؤں کو ِاد کرتے ہوئے ،تاکہ میں ُوُی ُے ِھر جاؤں؛ 5جب ممیں تجھ میں ُسس ِے عیب ُعتقاد کو ِاد کرنے کے ُیے پکارتا ہوں جو پہلے تیری دُدی ُوئیس ُور تیری ماں ِونیس میں رہتا تھا۔ ُور مجھے ِقین ہے کہ تجھ میں ِھی۔ ُ6یس یُئے ممیں تسجھے ِاد دیلتا ہ سوں کہ تسو سُدُ کی ُسس ِخشش کو جو میرے ہاتھ پہننے ُے تجھ میں ہے ُسِھرتا ہے۔ 7کیونکہ ُدُ نے ہمیں ُوف کی روح نہیں دی ہے۔ ُیکن طاقتُ ،ور محبتُ ،ور ُِک درُت دماغ کی. ُرمندہ نہ ہو ُور نہ ہی ُسس کا قیدی مجھ ُے ِلکہ سُدُ کی قسدرت کے سمطا یِق سُوُخبری کی 8پمس تسو ہمارے سُدُوند کی گوُہی ُے ی ِیبتوں میں ُرِک ہو۔ سم ی 9جس نے ہمیں ِچاِا ُور پاک ِسلئی کے ُاتھ ہمارے کاموں کے سمطا یِق نہیں ِلکہ ُپنے ُیرُدہ ُور فضل کے سمطا یِق جو دسنیا کے ُروع ی ُوع میں دیِا گیا تھا۔ ہونے ُے پہلے مُییح ِی س ُ10یکن ُب ہمارے نجات دہندہ ُِوع مُیح کے ظہور ُے ظاہر ہوُ ہے جس نے موت کو ُتم کر دِا ُور زندگی ُور لفانی کو ُوُخبری کے ذرِعے روُنی میں لِا۔ 11جس کے ُیے ممیں منادی ُور رُول ُور غیر قوموں کا ُُتاد مقرر کیا گیا ہوں۔ 12جس کی وجہ ُے ممیں ِھی ُین ِاتوں کا ُکار ہوں :پھر ِھی ممیں ُرمندہ نہیں ہوں کیونکہ ممیں جانتا ہوں جس پر ممیں ُِمان لِا ہوں، ُور ِقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ ممیں نے ُسس ُے کیا ہے ُسس دن تک وہ ِرقرُر رکھ ُکتا ہے۔ ُنا ہےُِ ،مان ُور محبت میں جو مُیح ُِوع میں ُ13سس ُچے ُُفاظ کی ُکل کو مضبوطی ُے پکڑو جو تم نے میرے ِارے میں س ہے۔ 14وہ ُچھی چیز جو آپ کو ُونپی گئی تھی روح ُُقدس کے ذرِعہ ُے جو ہم میں رہتا ہے۔ 15تسو ِہ جانتا ہے کہ آُیہ میں رہنے وُُے ُب مجھ ُے ِرگشتہ ہو گئے ہیں۔ جن میں ُے ُPhygellusور Hermogenesہیں۔ 16سُدُوند ُسنیُفورس کے گھر پر رحم کرے۔ کیونکہ ُس نے مجھے ُکثر تروتازہ کیاُ ،ور میری زنجیر ُے ُرمندہ نہ ہوُ۔ ُ17یکن جب وہ روم میں تھا تو ُسس نے ِڑی تندہی ُے میری تلش کی ُور مجھے پاِا۔ 18سُدُوند ُسُے عطا کرے کہ ُسس دین ُسس پر سُدُوند کی مہرِانی ہو ُور ُسس نے ُیفُس میں میری کتنی ُدمت کی ،تسو ِخوِی جانتا ہے۔ باب 2 1پس ُے میرے ِیٹے ،تسو ُسس فضل میں مضبوط ہو جو مُیح ُِوع میں ہے۔ ُنی ہیںُ ،سن ہی کو وفادُر آدمیوں کے حوُُے کر دِں ،جو ُ2ور جو ِاتیں تسو نے میرے ِارے میں ِہت ُے گوُہوں کے درمیان س دوُروں کو ِھی ُکھا ُکیں گے۔ 3پس تم ُِوع مُیح کے ُچھے ُپاہی کے طور پر ُختی کو ِردُُت کرو۔ 4کوئی ِھی آدمی جو جنگ کرتا ہے ُپنے آپ کو ُس زندگی کے معاملت میں ُُجھاتا ہے۔ تاکہ وہ ُسس کو ُوش کرے جس نے ُسُے ُپاہی کے ُیے چنا ہے۔ س ُ5ور ُگر کوئی ُخص ِھی مہارت حاصل کرنے کی کوُش کرے تو ِھی ُُے تاج نہیں دِا جاتاُ ،وُئے ُس کے کہ وہ قانونی طرِقے ُے کوُش کرے۔ 6جو ِاغبان محنت کرتا ہے وہ پھلوں کا ُب ُے پہلے حِہ دُر ہونا چاہیے۔ 7غور کرو جو میں کہتا ہوں۔ ُور سُدُوند تجھے ہر چیز کی ُمجھ عطا کرے۔ ِ8اد رکھو کہ دُؤد کی نُل کا ُِوع مُیح میری ُوُخبری کے مطاِق مردوں میں ُے جی ُسٹھا تھا۔ 9جس میں ممیں ُِک ِسرے کام کرنے وُُے کی طرح دسکھ ُسٹھاتا ہوںِ ،ہاں تک کہ ِندھنوں میں ِھی۔ ُیکن ُدُ کا کلم پاِند نہیں ہے۔ ی ُ10یس یُئے ممیں سچنے ہوئے ُوگوں کی ُاطر ُب کچھ ِردُُت کرتا ہوں تاکہ وہ ِھی ُسس نجات کو حاصل کرِں جو مُیح ُِوع میں ہے ُِدی جلل کے ُاتھ۔ ِ11ہ ُِک وفادُر قول ہے :کیونکہ ُگر ہم ُسس کے ُاتھ مر گئے تو ُسس کے ُاتھ زندہ ِھی رہیں گے۔ ُ12گر ہم دسکھ ُہیں گے تو ُسس کے ُاتھ حکومت ِھی کرِں گے ُگر ہم ُسس کا ُنکار کرِں گے تو وہ ِھی ہمارُ ُینکار کرے گا۔ ُ13گر ہم ِقین نہیں کرتے تو ِھی وہ وفادُر رہتا ہے :وہ ُپنی ذُت کا ُنکار نہیں کر ُکتا۔ ُننے ُ14ین ِاتوں میں ُے ُسن کو ِاد دلتے ہوئے سُدُوند کے حضور تاکید کرتے ہیں کہ وہ ِاتوں کے ِارے میں ِے فائدہ نہیں ِلکہ س وُُوں کو ِرِاد کرنے کے ُیے جھگڑتے ہیں۔ ُ15پنے آپ کو ُدُ کے ُامنے منظور ُدہ ظاہر کرنے کے ُئے مطاُعہ کرِںُِ ،ک ُُِا کام کرنے وُل جُے ُرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہےُ ،چائی کے کلم کو صحیح طور پر تقُیم کرتے ہوئے۔