شیطان اور جنون کی موسیقی یسعیاہ 14 اے لوسیفر ،صبح کے بیٹےُ ،و آسمان سے کیسے گرا ہے! ُتو کیونکر زمین پر کاٹ رہا ہے ،جس نے قوموں کو کمزور 12 !کیا :کیونکہ ُتو نے اپنے ِدل میں کہا ہے کہ میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا ،میں اپنے ُخت کو تُدا کے ستاروں سے بلند کروں گا 13 ممیں جماعت کے پہاڑ پر بھی بیٹھوں گا ،شمال کی طرف۔ اعلی کی طرح رہوں گا۔ 14 میں باِلوں کی اونچائیوں پر چڑھوں گا۔ میں سب سے ی پھر بھی ُتو جہنم میں ،گڑھے کے اطراف میں لیا جائے گا۔ 15 جو ُجھ کو ِیکھیں گے وہ ُجھ پر نظر ڈالیں گے اور ُجھ پر غور کریں گے اور کہیں گے کہ کیا یہ وہی آِمی ہے جس 16 نے زمین کو لرزایا جس نے سلطنتوں کو ہلیا؟ جس نے ِنیا کو بیابان بنا ِیا اور اس کے شہروں کو ُباہ کر ِیا۔ جس نے اس کے قیدیوں کے گھر نہیں کھولے؟ 17 حتی کہ سب کے سب اپنے اپنے گھر میں شان و شوکت سے بیٹھے ہیں۔ 18 قوموں کے ُمام باِشاہ ی لیکن ُتو اپنی قبر سے ایک مکروہ شاخ کی مانند اور مقتولوں کے لباس کی طرح نکال جاُا ہے جو ُلوار کے ذریعے 19 گڑھے کے پتھروں پر گرُے ہیں۔ پیروں ُلے روندی ہوئی لش کی طرح۔ ُتو اتن کے ساُھ ِفن نہ ہونا کیونکہ ُتو نے اپنی زمین کو ُباہ کیا اور اپنے لوگوں کو مار ڈال :بدکرِاروں کی نسل کبھی 20 مشہور نہیں ہو گی۔
حزقی ایل 28 اور تُداوند کا کلم میرے پاس آیا کہ 11 اے آِم زاِ ،صور کے باِشاہ پر نوحہ ُوانی کرو اور اس سے کہوُ ،داوند ُدا یوں فرماُا ہے۔ ُتو حکمت سے بھرا ،اور 12 ُوبصورُی میں کامل ،رقم پر مہر لگاُا ہے۔ سلیمانی ،اور یشب ،نیلم 13 ُ،م ُدا کے باغ عدن میں رہے ہو ہر قیمتی پتھر ُیرا غلف ُھا ،سارڈیس ،پکھراج اور ہیرا ،بیرل ،ت زمرِ اور کاربونکل اور سوناُ :یرے ُابوت اور ُیرے پائپوں کی کاریگری ُجھ میں اس ِن ُیار کی گئی ُھی جس ِن ُو پیدا ہوا ُھا۔ ُتو ممسوح کروب ہے جو ڈھانپتا ہے۔ اور میں نے ُجھے ایسا مقرر کیا ہےُ :و ُدا کے مقدس پہاڑ پر ُھا۔ ُتو آگ کے 14 پتھروں کے ِرمیان اتوپر نیچے چل گیا ہے۔ ُتو اپنی راہوں میں اتس ِن سے کامل ُھا جب ُک کہ ُتجھ میں بدکاری پائی گئی۔ 15 ُیری ُجارت کی کثرت سے اتنہوں نے ُیرے بیچ میں ظلم سے بھر ِیا اور ُتو نے گناہ کیا ،ادس لئے ممیں ُجھے تُدا کے 16 پہاڑ سے ناپاک کر ِوں گا اور اے ڈھانپنے والے کروب ،میں ُجھے آگ کے پتھروں کے ِرمیان سے ُباہ کر ِوں گا۔ ُیرا ِل ُیرے حسن کی وجہ سے بلند ہواُ ،و نے اپنی چمک کی وجہ سے اپنی حکمت کو بگاڑ ِیا :میں ُجھے زمین پر 17 پھینک ِوں گا ،میں ُجھے باِشاہوں کے سامنے رکھوں گا ُاکہ وہ ُجھے ِیکھیں۔ ُتو نے اپنی بے شمار بدکاریوں اور اپنی ُجارت کی بدکاری سے اپنے مقدس مقامات کو ناپاک کیا ہے۔ اس لیے میں ُیرے 18 ِرمیان سے ایک آگ نکالوں گا جو ُجھے کھا جائے گی اور میں ُجھے ان سب کے سامنے جو ُجھے ِیکھ رہے ہیں زمین پر راکھ کر ِوں گا۔ ت جو لوگ ُجھے جانتے ہیں وہ سب ُجھے ِیکھ کر حیران ہوں گےُ :و ِہشت زِہ ہو گا اور اب کبھی نہیں ہو گا۔ 19