Skip to main content

Urdu - The Lost Gospel According to Peter

Page 1

‫پیٹر کے مطابق گمشدہ انجیل‬ ‫‪ 1‬لیکن یہودیوں میں سے کسی نے ہاتھ نہیں دھوئے‪ ،‬نہ ہیرودیس ُور نہ ہی ُاس کے قاضیوں میں سے کسی نے۔ ُور جب ُانہوں نے ُان‬ ‫کو دھونے سے ُکنکار ککیا تو پیل ا‬ ‫ُس ُاٹھ کھڑُ ہوُ۔ ُور پھر ہیرودیس بادشاہ نے حکم دیا کہ اُدُوند نے ُان سے کہا کہ جو کچھ میں نے تم‬ ‫کو ُاس کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے وہ کرو۔‬ ‫ا‬ ‫‪ُ 2‬ور وہاں یوسف کھڑُ تھا جو پیلُس ُور ُدُوند کا دوست تھا۔ ُور یہ جان کر کہ وہ ُسے مصلوب کرنے وُلے ہیں‪ ،‬وہ پیلُس کے‬ ‫پاس آیا ُور اُدُوند کی لش کو دفنانے کے لیے کہا۔ ُور پیلُس نے ہیرودیس کے پاس بھیجا ُور ُس کی لش مانگی۔ ُور ہیرودیس‬ ‫نے کہا بھائی پیلُس ُگر کسی نے ُس کے بارے میں نہ بھی کہا ہو تب بھی ہم نے ُسے دفن کرنے کا ُرُدہ کیا تھا ُاص ُور پر‬ ‫جیسا کہ سبت کا دن ہوتا ہے کیونکہ شریعت میں لکھا ہے کہ جو شخص مارُ گیا ہو ُس پر سورج غروب نہ ہو۔‬ ‫ا‬ ‫‪ُ 3‬ور ُاس نے ُاسے بے ُمیری روٹی یعنی ُان کی عید سے پہلے کے دن لوگوں کے حوُلے کر دیا۔ ُور ُانہوں نے ُدُوند کو پکڑُ ُور‬ ‫دوڑتے ہوئے ُاسے دھکیل دیا ُور کہا آؤ ہم اُدُ کے بیٹے کو ُاس پر ُ​ُتیار کر کے گھسیٹ کر لے جائیں۔ ُور ُانہوں نے ُاسے ُرغوُنی‬ ‫رنگ کا لباس پہنایا ُور ُاسے عدُلت کے تخت پر بٹھایا ُور کہا کہ ُے ُسرُئیل کے بادشاہ رُستی سے ُنصاف کر۔ ُور ُن میں سے ُیک‬ ‫کانٹوں کا تاج ل کر ُدُوند کے سر پر رکھ دیا۔ ُور دوسروں نے کھڑے ہو کر ُاس کی آنکھوں میں تھوک دیا‪ُ ،‬ور دوسروں نے ُاس کے‬ ‫گالوں پر مارُ۔ ُور بعض نے ُاس کو کوڑے مارے ُور کہا کہ ُکس عزت سے ہم اُدُ کے بیٹے کی تعظیم کریں۔‬ ‫‪ُ 4‬ور وہ دو بدکاروں کو لئے ُور ُپنے درمیان اُدُوند کو مصلوب کیا۔ لیکن ُس نے ُاموشی ُ​ُتیار کی‪ ،‬جیسے کوئی درد نہ ہو۔ ُور‬ ‫جب ُانہوں نے صلیب کو ُاٹھایا تو ُانہوں نے عنوُن لکھا‪ :‬یہ ُسرُئیل کا بادشاہ ہے۔ ُور ُاس کے کپڑے ُاس کے سامنے رکھ کر ُان کو‬ ‫آپس میں بانٹ کر ُان کے لیے قرعہ اُل۔ ُور ُان بدکردُروں میں سے ُیک نے ُان کو ملمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو بارُئیاں کی‬ ‫ہیں ُان کی وجہ سے ہم ُکس ُرح سہے لیکن یہ آدمی جو ُنسانوں کا نجات دہندہ بن گیا ہے ُاس نے تمہارُ کیا قصور کیا ہے؟ ُور ُانہوں‬ ‫نے ُاس پر غضبناک ہو کر حکم دیا کہ ُاس کی ٹانگیں نہ توڑیں تاکہ وہ عذُب میں مر جائے۔‬ ‫‪ُ 5‬ور دوپہر کا وقت تھا ُور تمام یہودیہ پر ُندھیرُ چھا گیا ُور وہ پریشان ُور پریشان تھے کہ کہیں سورج غروب نہ ہو جب تک کہ وہ‬ ‫زندہ تھا کیونکہ ُن کے لیے لکھا ہے کہ جو مارُ گیا ہے ُس پر سورج غروب نہ ہو۔ ُور ُان میں سے ُیک نے کہا ُاسے سرکہ مل کر‬ ‫پینے دو۔ ُور ُانہوں نے ملیا ُور ُاسے پینے کو دیا‪ُ ،‬ور سب کچھ پورُ کیا‪ُ ،‬ور ُپنے گناہوں کو ُپنے سر کے ُلف پورُ کیا۔ ُور بہت‬ ‫سے لوگ چرُغ لے کر گھومتے رہے‪ ،‬یہ سمجھ کر کہ رُت ہو گئی ہے‪ُ ،‬ور گر پڑے۔ ُور اُدُوند نے کچلل کر کہا‪ ،‬میری قادرت‪ ،‬میری‬ ‫قادرت تاو نے امجھے چھوڑ دیا۔ ُور جب ُس نے یہ کہا تو ُسے ُٹھا لیا گیا۔ ُور ُاس وقت یروشلم کی ہیکل کا پردہ دو حصوں میں پھٹ‬ ‫گیا۔‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫‪ 6‬تب ُنہوں نے اُدُوند کے ہاتھ سے کیلیں نکال کر ُسے زمین پر رکھ دیا ُور ساری زمین کانپ گئی ُور بڑُ ُوف پیدُ ہو گیا۔ تب‬ ‫سورج چمکا‪ُ ،‬ور نویں گھنٹہ پایا گیا‪ُ :‬ور یہودی ُوش ہوئے‪ُ ،‬ور یوسف کو ُس کی لش دی کہ وہ ُسے دفن کرے‪ ،‬کیونکہ ُس نے‬ ‫دیکھا تھا کہ ُس نے کیا ُچھے کام کیے ہیں۔ ُور ُاس نے اُدُوند کو ُور ُاس کو لے کر کتان کے کپڑے میں لپیٹ کر ُاسے ُاس کی ُپنی‬ ‫قبر پر لے گیا جو یوسف کا باغ کہلتا تھا۔‬ ‫ا‬ ‫‪ 7‬تب ی اہودی ُور بزرگ ُور کاہن یہ جان کر کہ ُنہوں نے ُپنے ساتھ کیا بارُئی کی ہے‪ ،‬ماتم کرنے ُور کہنے لگے کہ ُفسوس ہمارے‬ ‫گناہوں پر‪ :‬عدُلت قریب آ گئی ُور یروشلم کا ُاتمہ۔ ُور میں ُپنے ساتھیوں کے ساتھ غمگین تھا۔ ُور دماغ میں زُمی ہو کر ہم نے ُپنے‬ ‫آپ کو چھپایا‪ ،‬کیونکہ وہ ہمیں مجرموں کے ُور پر ُور ہیکل کو آگ لگانا چاہتے تھے۔ ُور ُن سب باتوں پر ہم نے روزہ رکھا ُور‬ ‫سبت کے دن تک رُت دن ماتم ُور روتے رہے۔‬ ‫‪ 8‬لیکن فقیہ ُور فریسی ُور بزرگ ُیک دوسرے کے ساتھ جمع ہو رہے تھے جب ُنہوں نے سنا کہ سب لوگ بڑبڑُ رہے ہیں ُور سینہ‬ ‫پیٹ رہے ہیں کہ ُگر ُس کی موت سے یہ سب سے بڑی نشانیاں ظہور میں آئیں تو دیکھو وہ کتنا رُستباز ہے‪ ،‬بزرگ ار گئے ُور‬ ‫پیلُس کے پاس آ کر منت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپاہیوں کی حفاظت کرو ُور ہم تین دن تک ُس کے شاگردوں کی حفاظت کر‬ ‫سکیں۔ دور‪ُ ،‬ور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ امردوں میں سے جی ُاٹھا ہے ُور ہماری برُئی کرتا ہے۔ ُور پیل ا‬ ‫ُس نے ُان کو پطرونیاس‬ ‫صوبہ دُر ُور سپاہیوں‬ ‫صوبہ دُر سپاہیوں کے ساتھ قبر کی حفاظت کے لیے دیا۔ ُور ُان کے ساتھ بزرگ ُور فقیہ قبر کے پاس آئے ُور ا‬ ‫ا‬ ‫کے ساتھ مل کر ُیک بڑُ پتھر لاڑھا کر جو وہاں تھے سب نے مل کر ُاسے قبر کے دروُزے پر رکھ دیا۔ ُور ُانہوں نے سات مہریں‬ ‫لگائیں ُور وہاں ُیمہ لگایا ُور ُاس کی حفاظت کی۔ ُور صبح سویرے جب سبت کا دن ہو رہا تھا تو یروشلم ُور ُس کے آس پاس کے‬ ‫علقے سے ُیک بھیڑ آئی تاکہ وہ ُس قبر کو دیکھیں جس پر مہر کی گئی تھی۔‬ ‫‪ُ 9‬ور جس رُت میں اُدُوند کا دن آ رہا تھا جب سپاہی دو دو کر کے پہرے دُر تھے آسمان پر ُیک بڑی آوُز آئی۔ ُور ُانہوں نے دیکھا‬ ‫کہ آسمان کھل ہوُ ہے ُور دو آدمی وہاں سے بڑی روشنی کے ساتھ ُاتر کر قبر کے قریب آئے۔ ُور وہ پتھر جو دروُزے پر رکھا گیا تھا‬ ‫ُود سے لڑھک کر کچھ حصہ بنا۔ ُور قبر کھولی گئی ُور دونوں نوجوُن ُندر دُ​ُل ہوئے۔‬ ‫‪ 10‬جب ُان سپاہیوں نے یہ دیکھا تو صوبہ دُر ُور بزرگوں کو جگایا۔ کیونکہ وہ بھی سخت حفاظت کرتے تھے۔ ُور جب ُانہوں نے ُان‬ ‫چیزوں کو بیان کیا جو ُانہوں نے دیکھی تھیں‪ُ ،‬انہوں نے پھر دیکھا کہ تین آدمی قبر سے نکلے ہیں‪ُ ،‬ور ُان میں سے دو ُیک کو سہارُ‬ ‫دے رہے ہیں‪ُ ،‬ور ُیک صلیب ُان کے پیچھے چل رہی ہے‪ُ ،‬ور ُان دونوں کا سر آسمان تک پہنچ گیا‪ ،‬لیکن ُاس کا سر جو ُان کی‬ ‫رہنمائی کر رہا تھا‪ ،‬آسمانوں کو عبور کر گیا۔ ُور ُانہوں نے آسمان سے یہ آوُز سنی کہ تاو نے سونے وُلوں کو منادی کی ہے۔ ُور‬ ‫صلیب سے جوُب سنائی دیا‪ ،‬ہاں۔‬ ‫‪ 11‬پس ُانہوں نے آپس میں غور کیا کہ آیا چلے جائیں ُور یہ باتیں پیلُس کو بتائیں۔ ُور جب وہ ُبھی تک ُس پر سوچ رہے تھے‪،‬‬ ‫صوبہ دُر ُور ُاس کے ساتھ تھے ُکن باتوں‬ ‫آسمان دوبارہ کھلتا ہوُ نظر آتا ہے‪ُ ،‬ور ُیک آدمی نیچے ُتر کر قبر میں دُ​ُل ہوتا ہے۔ جب ا‬ ‫ا‬ ‫کو دیکھ کر رُت کو جلدی سے پیلُس کے پاس گئے ُور ُاس قبر کو چھوڑُ جس کو وہ دیکھ رہے تھے ُور جو کچھ ُنہوں نے دیکھا‬ ‫تھا ُاس کا بیان کیا ُور بہت پریشان ہو کر کہا کہ وُقعی وہ ُدُ کا بیٹا تھا۔ پیلُس نے جوُب دیا کہ میں اُدُ کے بیٹے کے ُون سے‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook