برنباس کا عام خط باب1 1میرے بیٹے اور بیٹیو ،آپ کو تمام ُوشیاں ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے نام سے ،جس نے ہم سے محبت کی ،سلمتی کے ساتھ۔ 2تم میں خُدا کے عظیم اور بہترین قوانین کے علم کی کثرت کو محسوس کرنے کے بعد ،ممیں آپ کی مبارک اور قاب لِ تعریف روحوں سے بے حد ُوش ہوں ،کیونکہ آپ کو وہ فضِ حاصِ ہوا جو آپ میں پیوند گیا تھا۔ 3جس کی وجہ سے ممیں ُوشی سے بھرا ہوا ہوں ،اخس کی بجائے اخس کی نجات کی امید رکھتا ہوں۔ جیسا کہ میں واقعی میں ُدا کے ُالص چشمے سے آپ میں ایک روح پھونکتا ہوا دیکھ رہا ہوں: خ 4الس قائِ ہونے اور اخس پر پورا یقین ہو کر ،کیونکہ جب سے ممیں نے تم سے بات کرنا شروع کی ہے ،مجھے ُداوند کی شریعت کی راہ میں جو مسیح میں ہے عام سے زیادہ اچھی کامیابی ملی ہے۔ 5جس کی وجہ سے بھائیو ،میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میں تم سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں؛ کیونکہ اس میں ایمان اور ُیرات کی عظمت کے ساتھ ساتھ آنے والی زندگی کی امید بھی رہتی ہے۔ 6.اس لیے اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ اگر میں آپ کو جو کچھ مل ہے اس کا کچھ حصہ آپ تک پہنچانے کا ُیال رکھوں گا ،تو یہ میرے انعام میں بدل جائے گا ،کہ میں نے ایسی نیک روحوں کی ُدمت کی ہے۔ میں نے آپ کو چند لفظوں میں لکھنے کی سعی کی۔ تاکہ تمہارے ایمان کے ساتھ علم بھی کامِ ہو۔ 7پس ُداوند کی طرف سے تین چیزیں مقرر کی گئی ہیں۔ زندگی کی امید؛ اس کی ابتدا اور تکمیِ۔ 8کیونکہ خُداوند نے ہم دونوں کو ،نبیوں کے وسیلہ سے اخن باتوں کا اعلن کیا ہے جو ماضی میں ہیں۔ اور ہم پر آنے والوں کی شروعاتیں کھول دیں۔ 9الس لیے ،جیسا کہ اخس نے کہا ہے ،ہمیں اخس کی قربان گاہ کے زیادہ مقدس اور قریب آنا چاہیے۔ 10اس لیے میں ایک استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ آپ میں سے ایک کی حیثیت سے آپ کے سامنے چند باتیں رکھنے کی کوشش کروں گا جن سے آپ بہت سے معاملت میں زیادہ ُوش ہو سکتے ہیں۔ باب2 1یہ دیکھ کر کہ دن بہت بخرے ہوتے جا رہے ہیں ،اور دشمن کو الس موجودہ دخنیا کی طاقت مِ گئی ہے ،ہمیں خُداوند کے راست فیصلوں کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ 2اب ہمارے ایمان کے مددگار ُوف اور صبر ہیں۔ ہمارے ساتھی لڑاکا ،صبر کرنے والے اور صبر کرنے والے۔ 3جب تک یہ خُداوند ،حکمت اور سمجھ اور سائنس اور علم سے متعلق پاکیزہ رہیں ،اخن کے ساتھ مِ کر ُوشی منائیں۔ 4لکیخونکہ خُدا نے سب نبیوں کے وسیلہ سے ہم پر ظاہلر لکیا کہ اخس کے پاس ہماری قخربانیوں یا بھسم ہونے والی قربانیوں یا نذرانے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ خُداوند فرماتا ہے کہ تمھاری قربانیوں کی کثرت میرے لیے کس مقصد کے لیے ہے؟ 5میں مینڈھوں کی سوُتنی قربانیوں اور چرائے گئے جانوروں کی چربی سے بھرا ہوا ہوں۔ اور میں بیلوں یا بکریوں کے ُون سے ُوش نہیں ہوں۔ 6جب تم میرے سامنے پیش ہونے کو آؤ گے۔ آپ کے ہاتھ سے یہ کس نے چاہا؟ تم میری عدالتوں میں مزید نہیں چلو گے۔ 7مزید فضول قربانیاں نہ لؤ ،بخور میرے لیے مکروہ ہے۔ آپ کے نئے چاند اور سبت؛ مجمعوں کی بلئی کو ممیں نہیں روک سکتا ،یہ بدعت ہے ،یہاں تک کہ پخرعزم اجلس۔ تمہارے نئے چاند اور تمہاری مقررہ عیدوں سے میری جان نفرت کرتی ہے۔ شریعت جو کہ الس قسم کی ضرورت کے خجوئے کے بغیر ہے 8پس خُدا نے الن باتوں کو مٹا دلیا تاکہ ہمارے خُداوند یل خ سوع مسلیح کی نئی ل ت ُود انسانوں کی خروحانی قخربانی حاصِ ہو۔ اخن کو بذا ل خ 9کیونکہ خُداوند نے ان سے لپھر کہا۔ کیا میں نے تمہارے باپ دادا کو ملک مصر سے نکلتے وقت سوُتنی قربانیوں کے بارے میں حکم دیا تھا؟ خ 10لیکن میں نے ان کو یہ حکم دیا کہ تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کے ُلف اپنے دل میں بخرائی کا تصور نہ کرے اور جھوٹی قسم سے محبت نہ کرے۔ 11پس چونکہ ہم بے سمجھ نہیں ہیں ،ہمیں اپنے مہربان باپ کی تدبیر کو سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ وہ ہم سے بات کرتا ہے ،اس ُواہش کے ساتھ کہ ہم جو قربانیوں کے بارے میں ایک ہی غلطی میں تھے ،تلش کریں اور اس کے پاس جانے کا طریقہ تلش کریں۔ 12اور الس لیے وہ ہم سے یوں کہتا ہے کہ خُدا کی قربانی( ایک ٹوٹی ہوئی روح ہے )ایک ٹوٹے ہوئے اور پشیمان دل کو خُدا حقیر نہیں سمجھے گا۔ 13الس لیے بھائیو ،ہمیں الن باتوں کے بارے میں زیادہ مستعدی سے تحقیق کرنی چاہیے جو ہماری نجات سے تعلق رکھتی ہیں ،تاکہ مخالف ہم میں داُِ نہ ہو ،اور ہمیں ہماری روحانی زندگی سے محروم نہ کر دے۔ 14الس لیے وہ الن باتوں کے بارے میں اخن سے دوبارہ بات کرتا ہے۔ تم آج کی طرح روزہ نہ رکھو تاکہ تمہاری آواز بلند ہو جائے۔ 15کیا یہ ایسا روزہ ہے جسے میں نے چن لیا ہے؟ ایک آدمی کے لیے اپنی روح کو تکلیف دینے کا دن؟ کیا اخس کا سر جھکنے کے لیے بلش کی طرح جھکنا اور اخس کے نیچے ٹاٹ اور راکھ پھیلنا ہے؟ کیا آپ اسے روزہ اور رب کے نزدیک مقبول دن کہیں گے؟