Skip to main content

Urdu - The Epistle to the Philippians

Page 1

‫فلپیئنز‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬یسوع مسیح کے خادم پولس اور تیموتھیس کی طرف سے مسیح یسوع کے تمام ممقّدسوں کو جو فلپی میں ہیں‪ ،‬بشپ اور ڈیکنز کے‬ ‫ساتھ‪:‬‬ ‫‪2‬ہمارے باپ خّا اور خّاونّ یسوع مسیح کی طرف سے تم پر فضل اور سلمتی ہو۔‬ ‫‪3‬میں آپ کی ہر یاد پر اپنے خّا کا شکر ادا کرتا ہوں۔‬ ‫‪4‬میری ہر دعا میں آپ سب کے لیے ہمیشہ خوشی کے ساتھ درخواست کرتا ہوں‪،‬‬ ‫‪5‬پہلے دن سے اب تک خوشخبری میں تمہاری رفاقت کے لیے۔‬ ‫‪6‬ااس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ جس نے تم میں اچھا کام شروع کیا ہے وہ یسوع مسیح کے دن تک امسے انجام دے گا۔‬ ‫‪7‬جیسا کہ تم سب کے بارے میں یہ سوچنا میرے لیے مناسب ہے‪ ،‬کیونکہ تم میرے دل میں ہو۔ جیسا کہ میرے بنّھنوں میں‪ ،‬اور انجیل‬ ‫کے دفاع اور تصّیق میں‪ ،‬تم سب میرے فضل کے حصہ دار ہو۔‬ ‫‪8‬کیونکہ مخّا میرا ریکارڈ ہے کہ میں یسوع مسیح کی انتڑیوں میں آپ سب کی کتنی خواہش کرتا ہوں۔‬ ‫‪9‬اور میں یہ دمعا کرتا ہوں کہ تمہاری محبت علم اور ہر طرح کے فیصلے میں اور بھی بڑھ جائے۔‬ ‫‪10‬تاکہ تم ان چیزوں کو قبول کرو جو بہترین ہیں۔ تاکہ تم مسیح کے دن تک مخلص اور بے گناہ رہو۔‬ ‫‪11‬راستبازی کے پھلوں سے معمور ہونا جو یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہیں‪ ،‬خّا کے جلل اور حمّ کے لیے۔‬ ‫‪12‬لیکن میں چاہتا ہوں کہ بھائیو‪ ،‬آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ خوشخبری کو آگے بڑھانے کے لیے گرا ہے۔‬ ‫‪13‬تاکہ مسیح میں میرے بنّھن تمام محلوں اور تمام جگہوں پر ظاہر ہوں۔‬ ‫‪14‬اور مخّاونّ میں بہت سے بھائای جو میرے بنّھنوں سے پمراعتماد ہو کر بے خوف کلم کہنے میں زیادہ دلیر ہیں۔‬ ‫‪15‬بعض تو حسّ اور جھگڑے کے باوجود مسیح کی منادی کرتے ہیں۔ اور کچھ نیک نیتی سے بھی‪:‬‬ ‫‪16‬جو جھگڑے کے مسیح کی منادی کرتا ہے‪ ،‬نہ کہ خلوص سے‪ ،‬یہ سوچ کر کہ میرے بنّھنوں میں مصیبت ڈالے‪:‬‬ ‫‪17‬لیکن محبت کا دوسرا‪ ،‬یہ جانتے ہوئے کہ میں خوشخبری کے دفاع کے لیے تیار ہوں۔‬ ‫‪18‬پھر کیا؟ اس کے باوجود‪ ،‬ہر طرح سے‪ ،‬خواہ دکھاوا ہو یا سچائی‪ ،‬مسیح کی منادی کی جاتی ہے۔ اور میں اس میں خوش ہوں‪ ،‬ہاں‪،‬‬ ‫اور خوش رہوں گا۔‬ ‫‪19‬کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ تمہاری دعا اور یسوع مسیح کی روح کی فراہمی کے ذریعے میری نجات کی طرف موڑ دے گا۔‬ ‫‪20‬میری پوری امیّ اور میری اممیّ کے مطابق کہ میں کسی چیز میں شرمنّہ نہیں ہوں گا بلکہ پوری دلیری کے ساتھ ہمیشہ کی طرح‬ ‫اب مسیح بھی میرے جسم میں‪ ،‬چاہے وہ زنّگی سے ہو یا موت سے۔‬ ‫‪21‬کیونکہ میرے لیے جینا مسیح ہے اور مرنا فائّہ ہے۔‬ ‫‪22‬لیکن اگر میں جسم میں رہتا ہوں‪ ،‬تو یہ میری محنت کا پھل ہے ‪:‬پھر بھی جو کچھ میں چنوں گا‪ ،‬میں نہیں جانتا۔‬ ‫‪23‬کیونکہ میں دونوں کے درمیان ایک تنگی میں ہوں‪ ،‬مجھے رخصت ہونے اور مسیح کے ساتھ رہنے کی خواہش ہے۔ جو کہیں بہتر‬ ‫ہے‪:‬‬ ‫‪24‬تاہم جسم میں قائم رہنا تمہارے لیے زیادہ ضروری ہے۔‬ ‫‪25‬اور اس اعتماد کے ساتھ‪ ،‬میں جانتا ہوں کہ میں آپ سب کے ساتھ قائم رہوں گا اور آپ کے ایمان کی خوشی اور ترقی کے لیے‬ ‫جاری رہوں گا۔‬ ‫‪26‬تاکہ آپ کے پاس دوبارہ آنے سے آپ کی خوشی یسوع مسیح میں میرے لیے زیادہ ہو جائے۔‬ ‫‪27‬آپ کی گفتگو صرف مسیح کی خوشخبری کے مطابق ہو ‪:‬تاکہ میں آکر آپ کو دیکھوں یا غیر حاضر رہوں‪ ،‬میں آپ کے معاملت‬ ‫کے بارے میں سن سکتا ہوں‪ ،‬کہ آپ ایک روح کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں‪ ،‬اور ایک ذہن کے ساتھ ایمان کے لیے کوشش‬ ‫کرتے ہیں۔ انجیل کی؛‬ ‫‪28‬اور اپنے مخالفوں سے کسی چیز میں خوفزدہ نہ ہوں ‪:‬جو امن کے لیے تباہی کی واضح نشانی ہے‪ ،‬لیکن آپ کے لیے نجات اور مخّا‬ ‫کی ہے۔‬ ‫‪29‬کیونکہ آپ کو یہ مسیح کی طرف سے دیا گیا ہے‪ ،‬نہ صرف امس پر ایمان لنا بلکہ امس کی خاطر دمکھ امٹھانا بھی۔‬ ‫‪30‬وہی جھگڑا ہے جو تم نے مجھ میں دیکھا تھا اور اب سنتے ہو کہ تم مجھ میں ہو۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪1‬پس اگر مسیح میں کوئی تسلی ہو‪ ،‬اگر محبت کی کوئی تسلی ہو‪ ،‬اگر روح کی کوئی رفاقت ہو‪ ،‬اگر کوئی ہمت اور رحم ہو‪،‬‬ ‫‪2‬تم میری خوشی کو پورا کرو کہ تم ایک جیسے ہو جاؤ‪ ،‬ایک جیسی محبت رکھتے ہو‪ ،‬ایک سمجھوتے اور ایک ذہن کے ہو۔‬ ‫‪3‬جھگڑے اور شوخی سے کچھ نہ کیا جائے۔ لیکن دل کی فروتنی میں ہر ایک دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔‬ ‫‪4‬ہر آدمی اپنی باتوں پر نہ دیکھے بلکہ ہر آدمی دوسروں کی باتوں پر بھی نظر رکھے۔‬ ‫‪5‬یہ ذہن تمہارے انّر رہے جو مسیح یسوع میں بھی تھا۔‬ ‫‪6‬جس نے خّا کی شکل میں خّا کے برابر ہونا چوری نہیں سمجھا۔‬ ‫‪7‬لیکن اس نے اپنے آپ کو نام نہاد بنایا‪ ،‬اور اس پر ایک خادم کی شکل اختیار کی‪ ،‬اور آدمیوں کی شکل میں بنایا گیا‪:‬‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Epistle to the Philippians by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu