Skip to main content

Urdu - The Epistle to the Galatians

Page 1

‫گلیاتیوں‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬پولوس‪ ،‬ایک رسول‪( ،‬انسانوں کی طرف سے نہیں‪ ،‬نہ ہی انسان کی طرف سے‪ ،‬بلکہ یسوع مسیح‪ ،‬اور خدا باپ‪ ،‬جس نے اسے‬ ‫مردوں میں سے زندہ کیا)‬ ‫‪2‬اور تمام بھائیوں کو جو میرے ساتھ ہیں گلتیہ کی کلیسیاؤں کو۔‬ ‫‪3‬تم پر خدا باپ اور ہمارے خداوند یسوع مسیح کی طرف سے فضل اور سلمتی ہو۔‬ ‫‪4‬جس نے اپنے آپ کو ہمارے گناہوں کے لیے دے دیا‪ ،‬تاکہ وہ ہمیں اس موجودہ بخری دخنیا سے‪ ،‬خخدا اور ہمارے باپ کی مرضی کے‬ ‫مطابق نجات دے۔‬ ‫‪5‬جس کا ابد تک جلل ہو۔ آمین۔‬ ‫‪6‬میں تعجب کرتا ہوں کہ آپ اس سے اتنی جلدی دور ہو گئے ہیں جس نے آپ کو مسیح کے فضل میں دوسری خوشخبری کے لیے‬ ‫بلیا۔‬ ‫‪7‬جو کوئی دوسرا نہیں ہے۔ لیکن کچھ ایسے ہیں جو آپ کو پریشان کرتے ہیں‪ ،‬اور مسیح کی خوشخبری کو خراب کرتے ہیں۔‬ ‫‪8‬لیکن اگر چہ ہم یا آسمان کا کوئی فرشتہ آپ کو اس خوشخبری کے الوہ جو ہم نے آپ کو سنایا ہے کوئی دوسری خوشخبری سنائیں‬ ‫تو وہ ملعون ہو۔‬ ‫خ‬ ‫‪9‬جیسا کہ ہم نے پہلے کہا تھا‪ ،‬اب میں پھر کہتا ہوں‪ ،‬اگر کوئی آپ کو اس خوشخبری کے الوہ جو آپ کو موصول ہوئی ہے‪ ،‬کوئی‬ ‫دوسری خوشخبری سنائے تو وہ ملعون ہو۔‬ ‫‪10‬کیونکہ اب میں آدمیوں کو قائل کرتا ہوں یا خدا؟ یا میں مردوں کو خوش کرنا چاہتا ہوں؟ کیونکہ اگر میں ابھی تک لوگوں کو خوش‬ ‫کرتا ہوں تو مجھے مسیح کا خادم نہیں ہونا چاہیے۔‬ ‫‪11‬لیکن بھائیو‪ ،‬ممیں آپ کو تصدیق کرتا ہوں کہ جو خوشخبری میری طرف سے سنائی گئی وہ انسان کے بعد نہیں ہے۔‬ ‫‪12‬کیونکہ نہ مجھے یہ انسان کی طرف سے حاصل ہوا اور نہ ہی مجھے سکھایا گیا بلکہ یسوع مسیح کے نزول سے۔‬ ‫‪13‬کیونکہ تم نے یہودیوں کے مذہب میں ماضی میں میری گفتگو کے بارے میں سنا ہے کہ میں نے خدا کی کلیسیا کو کس حد تک‬ ‫ستایا اور اسے برباد کیا۔‬ ‫‪14‬اور اپنے باپ دادا کی روایتوں سے زیادہ غیرت مند ہو کر یہودیوں کے مذہب میں اپنی قوم میں اپنے ہمسایوں سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔‬ ‫‪15‬لیکن جب خدا کو پسند آیا جس نے مجھے میری ماں کے پیٹ سے الگ کیا اور اپنے فضل سے مجھے بلیا۔‬ ‫‪16‬اپنے بیٹے کو مجھ میں ظاہر کرنے کے لیے‪ ،‬تاکہ میں قوموں میں اخس کی منادی کروں۔ فوری طور پر میں نے گوشت اور خون‬ ‫سے نوازا نہیں‪:‬‬ ‫‪17‬نہ میں یروشلم میں اخن کے پاس گیا جو مجھ سے پہلے رسول تھے۔ لیکن میں ارب چل گیا اور دمشق واپس آیا۔‬ ‫‪18‬پھر تین سال کے بعد ممیں پطرس کو دیکھنے کے لیے یروشلم گیا اور اخس کے ساتھ پندرہ دن رہا۔‬ ‫سولوں نے خخداوند کے بھائی یعقوب کے کسوا خمجھے ککسی کو نہیں دیکھا۔‬ ‫‪19‬لیکن دوسرے ر خ‬ ‫‪20‬اب جو باتیں میں آپ کو لکھتا ہوں‪ ،‬دیکھو‪ ،‬خدا کے سامنے‪ ،‬میں جھوٹ نہیں بولتا۔‬ ‫‪21‬اس کے بعد میں شام اور کلیسیا کے القوں میں آیا۔‬ ‫‪22‬اور یہودیہ کی کلیسیاؤں کے سامنے جو مسیح میں تھیں ان سے ناواقف تھا۔‬ ‫سنا تھا کہ جو ماضی میں ہمیں ستاتا تھا وہ اب اخس ایمان کی منادی کرتا ہے جسے کبھی اخس نے تباہ کر‬ ‫‪23‬لیکن اخنہوں نے صرف یہ خ‬ ‫دیا تھا۔‬ ‫‪24‬اور انہوں نے مجھ میں خدا کی تمجید کی۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪1‬پھر چودہ سال بعد میں برنباس کے ساتھ دوبارہ یروشلم گیا اور ططس کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔‬ ‫‪2‬اور میں مکاشفہ کے ذریعہ اوپر گیا اور اخن کو وہ خوشخبری سنائی جس کی ممیں غیر قوموں میں منادی کرتا ہوں‪ ،‬بلکہ اخن سے جو‬ ‫شہرت کے حامل تھے‪ ،‬اخن سے رازداری کرتے تھے‪ ،‬ایسا نہ ہو کہ میں کسی بھی طرح سے بھاگ جاؤں‪ ،‬یا دوڑنا بیکار ہو جائے۔‬ ‫‪3‬لیکن نہ تو ططس جو میرے ساتھ تھا‪ ،‬یونانی ہونے کی وجہ سے ختنہ کرنے پر مجبور نہیں ہوا۔‬ ‫‪4‬اور یہ کہ جھوٹے بھائیوں کی وجہ سے جو بے خبری میں لئے گئے جو ہماری آزادی کی جاسوسی کرنے کے لیے آئے تھے جو‬ ‫ہمیں مسیح یسوع میں ہے تاکہ وہ ہمیں غلمی میں ل سکیں۔‬ ‫‪5‬جسے ہم نے تابع کر کے جگہ دی‪ ،‬نہیں‪ ،‬ایک گھنٹے کے لیے نہیں۔ تاکہ خوشخبری کی سچائی آپ کے ساتھ جاری رہے۔‬ ‫‪6‬لیکن ان میں سے جو کچھ بھی تھے‪( ،‬وہ جو کچھ بھی تھے‪ ،‬اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ‪:‬خدا کسی آدمی کو قبول نہیں کرتا )‪:‬‬ ‫کیونکہ جو لوگ کانفرنس میں کچھ نظر آتے تھے‪ ،‬انہوں نے مجھ سے کچھ بھی نہیں بڑھایا۔‬ ‫‪7‬لیکن اکس کے براکس‪ ،‬جب اخنہوں نے دیکھا کہ نامختونوں کی خوشخبری مجھ کو سونپی گئی ہے‪ ،‬جیسا کہ ختنہ کرنے والوں کی‬ ‫خوشخبری پطرس کو تھی۔‬ ‫سولیت کے لیے مؤثر طریقے سے کام کیا‪ ،‬وہی غیر قوموں کے لیے مجھ میں زبردست تھا۔)‬ ‫ر‬ ‫کی‬ ‫ختنہ‬ ‫میں‬ ‫پطرس‬ ‫( ‪8‬کیونکہ جس نے‬ ‫خ‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Epistle to the Galatians by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu