Skip to main content

Urdu - The Epistle to the Ephesians

Page 1

‫افسیوں‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬پوُمس‪ ،‬مُّا کی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول‪ ،‬امن ممقّدسوں کو جو اافسس میں ہیں اور مسیح یسوع میں وفاداروں کے نام‪:‬‬ ‫‪2‬ہمارے باپ ُّا اور ُّاونّ یسوع مسیح کی طرف سے تم پر فضل اور سلمتی ہو۔‬ ‫‪3‬مبارک ہو ہمارے مُّاونّ یسوع مسیح کے ُّا اور باپ کی جس نے ہمیں مسیح میں آسمانی جگہوں پر تمام روحانی برکات سے نوازا‬ ‫ہے۔‬ ‫‪4‬جیسا کہ امس نے ہمیں دنیا کی بنیاد سے پہلے امس میں مُنا تاکہ ہم امس کے حضور محبت میں پاک اور بے عیب رہیں۔‬ ‫‪5‬ہمیں یسوع مسیح کی طرف سے گود ُینے کے ُیے پہلے سے مقرر کر کے‪ ،‬اپنی مرضی کی ُوشنودی کے مطابق‪،‬‬ ‫‪6‬امس کے فضل کے جلل کی ستائش کے ُیے‪ ،‬جس میں امس نے ہمیں محبوبوں میں قبول کیا ہے۔‬ ‫‪7‬جس میں امس کے مُون کے وسیلہ سے ہمیں فّیہ‪ ،‬امس کے فضل کی دوُت کے ممطا ابق مگناہوں کی معافی ملی۔‬ ‫ا‬ ‫‪8‬جس میں امس نے پوری حکمت اور ہوشیاری سے ہماری طرف کثرت کی ہے۔‬ ‫‪9‬امس نے اپنی مرضی کے بھیّ کو ہم پر ظاہر کر دیا‪ ،‬امس کی ُوشنودی کے ممطابق جو امس نے اپنے آپ میں ارادہ کیا ہے۔‬ ‫‪10‬تاکہ وقت کی معموری کے ساتھ وہ تمام ُیزوں کو جو آسمان پر ہیں اور جو زمین پر ہیں مسیح میں ایک ساتھ جمع کر سکے۔ یہاں‬ ‫تک کہ اس میں‪:‬‬ ‫‪11‬جس میں ہم نے بھی میراث پائی ہے‪ ،‬اس کے مقصّ کے مطابق پہلے سے مقرر کیا گیا ہے جو سب کچھ اپنی مرضی کے مشورے‬ ‫کے مطابق کرتا ہے۔‬ ‫‪12‬کہ ہم امس کے جلل کی ستائش کریں جس نے پہلے مسیح پر بھروسہ کیا۔‬ ‫سنی ‪:‬جس پر بھی تم ایمان لئے‪ ،‬امس‬ ‫‪13‬جس پر تم نے بھی بھروسہ کیا‪ ،‬امس کے بعّ تم نے سچائی کا کلم‪ ،‬اپنی نجات کی ُوشخبری م‬ ‫وعّہ کی روح اُقّس کے ساتھ مہر کر دی گئی۔‬ ‫‪14‬جو ہماری وراثت میں امس کے جلل کی ستائش کے ُیے ُریّی ہوئی ملکیت کے ُھڑائے جانے تک ہے۔‬ ‫سنا۔‬ ‫سوع پر تممہارے اایمان اور سب ممقّدسوں سے ممحبدت کے بارے میں م‬ ‫‪15‬ااس اُئے ممیں نے بھی مُّاونّ ای م‬ ‫‪16‬اپنی دعاؤں میں تیرا ذکر کرتے ہوئے تیرا شکر ادا کرنے سے باز نہ آؤ۔‬ ‫‪17‬تاکہ ہمارے مُّاونّ یسوع مسیح کا مُّا جو جلل کا باپ ہے آپ کو حکمت اور مکاشفہ کی مروح اپنی پہچان میں عطا کرے۔‬ ‫‪18‬تمہاری سمجھ کی آنکھیں روشن ہو رہی ہیں۔ تاکہ تم جانو کہ امس کے بلنے کی اممیّ کیا ہے اور امس کی میراث کے جلل کی دوُت‬ ‫مقّسوں میں کیا ہے۔‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫‪19‬اور امس کی قمّرت کی ہم پر اایمان لنے واُوں کے اُئے اس کی قّرت کی قّرت کے کام کے ممطاباق اس کی کیا بڑی عظمت ہے؟‬ ‫‪20‬جو امس نے مسایح میں اکیا جب امسے ممردوں میں سے اجلیا اور آسمانی جگہوں پر اپنے دہنے ہاتھ بٹھایا۔‬ ‫‪21‬تمام سلطنت اور طاقت اور طاقت اور سلطنت اور ہر اس نام سے جو نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آنے واُی ُیزوں میں بھی نامزد‬ ‫کیا گیا ہے۔‬ ‫‪22‬اور سب کچھ امس کے پاؤں تلے رکھ دیا اور امسے کلیسیا کے ُیے سب ُیزوں کا سربراہ بنا دیا‪،‬‬ ‫‪23‬جو امس کا بّن ہے‪ ،‬امس کی معموری جو ہر ُیز کو بھرتی ہے۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪1‬اور امس نے تمم کو اجل دایا جو ُطاؤں اور مگناہوں میں ممردہ تھے۔‬ ‫‪2‬جس میں ماضی میں تم اس دنیا کی روش کے مطابق ُلتے تھے‪ ،‬ہوا کی طاقت کے شہزادے کے مطابق‪ ،‬وہ روح جو اب نافرمانی‬ ‫کے بچوں میں کام کرتی ہے۔‬ ‫‪3‬امن کے درمیان بھی ہم سب نے اپنے جسم کی ُواہشات میں‪ ،‬جسم اور دماغ کی ُواہشات کو پورا کرنے کے ُیے ماضی میں اپنی‬ ‫گفتگو کی تھی۔ اور فطرتا ا غضب کے فرزنّ تھے‪ ،‬یہاں تک کہ دوسروں کی طرح۔‬ ‫‪ُ4‬یکن مُّا جو رحم سے مال مال ہے اپنی عظیم محبت کے سبب سے جس سے امس نے ہم سے محبت کی۔‬ ‫‪5‬یہاں تک کہ جب ہم گناہوں میں ممردہ تھے‪ ،‬ہمیں مسیح کے ساتھ زنّہ کیا‪( ،‬آپ کے فضل سے آپ کو نجات ملی۔)‬ ‫‪6‬اور ہمیں ایک ساتھ اٹھایا اور مسیح یسوع میں آسمانی جگہوں پر ایک ساتھ بٹھایا۔‬ ‫‪7‬تاکہ آنے واُے زمانے میں وہ مسیح یسوع کے وسیلہ سے ہم پر اپنی مہربانی سے اپنے فضل کی حّ سے زیادہ دوُت کو ظاہر کرے۔‬ ‫‪8‬کیونکہ تم ایمان کے وسیلہ سے فضل سے نجات پاتے ہو۔ اور یہ آپ کی طرف سے نہیں ‪:‬یہ ُّا کا تحفہ ہے۔‬ ‫‪9‬کاموں سے نہیں‪ ،‬ایسا نہ ہو کہ کوئی فخر کرے۔‬ ‫م‬ ‫قرر اکیا‬ ‫‪ 10‬اکیمونکہ ہم امس کی کاریگری ہیں اجن کو مسایح یا م‬ ‫سوع میں اُ دھے کاموں کے اُئے پیّا اکیا گیا ہے اجن کا ُّا نے پہلے سے مم د‬ ‫تھا کہ امن میں ُلیں۔‬ ‫‪11‬پس یاد رکھو کہ تم جسمانی طور پر غیر قوموں سے گزر ُکے ہو‪ ،‬جو ہاتھوں کے بنائے ہوئے جسم میں ُتنہ کہلتے ہیں جو کہ‬ ‫غیر مختون کہلتے ہیں۔‬ ‫‪12‬کہ امس وقت تم مسیح کے بغیر‪ ،‬اسرائیل کی دوُت سے اجنبی اور وعّے کے عہّ سے اجنبی تھے‪ ،‬کوئی امیّ نہیں رکھتے اور دنیا‬ ‫میں ُّا کے بغیر تھے۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Epistle to the Ephesians by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu