Skip to main content

Urdu - The Book of the Secrets of Enoch

Page 1

‫حنوک کے رازوں کی کتاب‬ ‫تعارف‬ ‫ابتدائی ادب کا یہ نیا ٹکڑا کچھ مخطوطات کے ذریعے منظر عام پر آیا جو حال ہی میں روس اور سرویا میں پائے گئے تھے اور جہاں‬ ‫تک ابھی تک معلوم ہے صرف سلونک زبان میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اس کی اصلیت کے بارے میں بہت کم معلوم ہے سوائے اس کے‬ ‫کہ اس کی موجودہ شکل میں یہ کہیں عیسائی دور کے آغاز کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ اس کا آخری ایڈیٹر یونانی تھا اور اس کی‬ ‫ساخت کا مقام مصر تھا۔ اس کی قدر اس بلشبہ اثر میں مضمر ہے جو اس نے نئے عہد نامہ کے مصنفین پر اال ہے۔ مؤخر الذکر کے‬ ‫کچھ تاریک راستے اس کی مدد کے بغیر ناقابل بیان ہیں۔‬ ‫اگرچہ یہ علم کہ اس طرح کی کتاب کبھی موجود تھی شاید ‪ 1200‬سالوں سے ختم ہو گئی تھی‪ ،‬تاہم اس کے باوجود ابتدائی صدیوں میں‬ ‫عیسائی اور بدعتی دونوں ہی اس کا استعمال کرتے تھے اور ابتدائی عیسائیت کی شکلوں کے کسی بھی مطالعہ میں ایک انتہائی قیمتی‬ ‫دستاویز کی شکل دیتے ہیں۔‬ ‫تحریر قارئین کو اپیل کرتی ہے جو اپنے خیالت کو پروں دینے اور صوفیانہ دائروں کی طرف اڑان بھرتا ہے۔ تخلیق‪ ،‬بشریات‪ ،‬اور‬ ‫اخلقیات پر خیالت کے ساتھ ‪ -‬یہاں ابدیت کی ایک عجیب ارامہ نگاری ہے۔ جیسا کہ دنیا چھ دنوں میں بنی تھی‪ ،‬اسی طرح اس کی‬ ‫تاریخ ‪ 6,000‬سال (یا ‪ 6,000,000‬سال) میں پوری ہوگی اور اس کے بعد ‪ 1,000‬سال باقی ہوں گے (ممکنہ طور پر جب متضاد‬ ‫اخلقی قوتوں کا توازن ٹوٹ گیا ہو اور انسانی زندگی مثالی حالت میں پہنچ گئی ہو)۔ اس کے اختتام پر ‪ 8‬واں ابدی دن شروع ہوگا‪ ،‬جب‬ ‫وقت زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪ 1‬ایک عقلمند آدمی‪ ،‬ایک عظیم فنکار تھا‪ ،‬اور اخداوند نے ااس کے لیے محبت کا تصور کیا اور ااس کا استقبال کیا‪ ،‬تاکہ وہ ااوپر کے‬ ‫قادر مطلق کے حکیم اور عظیم اور ناقاب لل تصور اور غیر متبدل دائرے کا چشم دید گواہ بنے‪ ،‬نہایت شاندار‬ ‫مکانات کو دیکھے اور اخدا ل‬ ‫ا‬ ‫اور جللی اور روشن اور بہت سے آنکھوں والے بندے کے بندے کا۔ خداوند‪ ،‬اور لفانی میزبانوں کے درجات اور مظاہر کا‪ ،‬اور‬ ‫عناصر کی کثرت کی ناقابل عمل خدمت کا‪ ،‬اور کروبیم کے میزبان کے مختلف ظہور اور ناقابل بیان گانا‪ ،‬اور لمحدود روشنی کا۔‬ ‫‪ 2‬اس وقت‪ ،‬اس نے کہا‪ ،‬جب میرا ‪ 165‬واں سال مکمل ہوا تو میں نے اپنے بیٹے متھوسل کو جنم دیا۔‬ ‫‪ 3‬اس کے بعد بھی میں دو سو سال جیتا رہا اور اپنی زندگی کے تمام سالوں میں سے تین سو پینسٹھ سال پورے کر لیا۔‬ ‫‪ 4‬پہلے مہینے کے پہلے دن میں اپنے گھر میں اکیل تھا اور اپنے صوفے پر آرام کر کے سو گیا۔‬ ‫‪ 5‬اور جب میں سو رہا تھا تو میرے دل میں بڑی تکلیف آئی اور میں نیند میں اپنی آنکھوں سے رو رہا تھا اور میں سمجھ نہیں سکتا تھا‬ ‫کہ یہ تکلیف کیا ہے یا میرے ساتھ کیا ہو گا۔‬ ‫‪ 6‬اور مجھے دو آدمی دکھائی دیے جو اتنے بڑے تھے کہ میں نے زمین پر کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ ان کے چہرے سورج کی طرح‬ ‫چمک رہے تھے‪ ،‬ان کی آنکھیں بھی جلتی ہوئی روشنی کی طرح تھیں‪ ،‬اور ان کے ہونٹوں سے آگ نکل رہی تھی اور لباس اور طرح‬ ‫طرح کے گانے گاتے ہوئے جامنی رنگ کے تھے‪ ،‬ان کے پر سونے سے زیادہ روشن‪ ،‬ان کے ہاتھ برف سے زیادہ سفید تھے۔‬ ‫‪ 7‬وہ میرے صوفے کے سرہانے کھڑے تھے اور مجھے میرا نام لے کر پکارنے لگے۔‬ ‫‪ 8‬اور میں نے اپنی نیند سے ااٹھ کر صاف دیکھا کہ وہ دو آدمی میرے سامنے کھڑے ہیں۔‬ ‫‪ 9‬اور ممیں نے اان کو سلم کیا اور ار کے مارے میرے چہرے کا رنگ ہیبت سے بدل گیا اور اان لوگوں نے مجھ سے کہا‪:‬‬ ‫‪ 10‬حوصلہ رکھ‪ ،‬حنوک‪ ،‬مت ار۔ ابدی خدا نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے‪ ،‬اور لو! تاو آج ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے گا‪ ،‬اور تاو‬ ‫اپنے بیٹوں اور اپنے تمام گھر والوں کو وہ سب کچھ بتائے گا جو وہ آپ کے بغیر زمین پر آپ کے گھر میں کریں گے‪ ،‬اور جب تک‬ ‫رب آپ کو اان کے پاس واپس نہ کر دے کوئی آپ کو تلش نہ کرے۔‬ ‫‪ 11‬اور ممیں نے اان کی بات ماننے کے لیے جلدی کی اور اپنے گھر سے نکل اور جیسا کہ مجھے حکم دیا گیا تھا دروازوں تک پہنچا‬ ‫اور اپنے بیٹوں متوسل اور رجیم اور جیداد کو بال کر اان کو وہ تمام عجائب بتائے جو اان آدمیوں نے مجھ سے کہے تھے۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪ 1‬اے میرے بچو‪ ،‬میری سنو‪ ،‬میں نہیں جانتا کہ میں کہاں جاؤں گا‪ ،‬یا مجھ پر کیا گزرے گی۔ اس لیے اب میرے بچو‪ ،‬میں تم سے کہتا‬ ‫ہوں‪ :‬خدا کی طرف سے بیکار کے سامنے نہ پھرو‪ ،‬جس نے آسمان اور زمین کو نہیں بنایا‪ ،‬کیونکہ یہ اور جو ان کی پرستش کرتے ہیں‬ ‫فنا ہو جائیں گے‪ ،‬اور خداوند تمہارے دلوں کو اس کے خوف سے یقین دلئے گا۔ اور اب‪ ،‬میرے بچو‪ ،‬جب تک رب مجھے تمہارے‬ ‫پاس واپس نہ کر دے‪ ،‬کوئی مجھے اھونڈنے کا سوچنے نہ دے۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Book of the Secrets of Enoch by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu