رسولوں کے اعمال باب 1 1اے تھیوفیلس ،میں نے ان سب چیزوں کے بارے میں جو یسوع نے کرنے اور سکھانے کے لیے شروع کیے تھے ،میں نے سابقہ مقالہ بنایا ہے۔ 2اچس ِجن تک جب اچسے اچٹھایا گیا ،اچس کے بعد اچس نے چرو چُ القچدس کے وسیلہ سے اچن رسولوں کو چُکم ِجیا ججن کو اچس نے چچنا تھا: 3جس پر اس نے اپنے آپ کو اپنے شوق کے بعد بہت سے ناقاب جِ فہم ثبوتوں کے ذریعے زندہ ظاہر کیا ،اور وہ چالیس ِن تک ِیکھے جاتے رہے ،اور خدا کی باِشاہی سے متعلق باتوں کا ذکر کرتے ہوئے: چ 4اور اچن کے ساتھ جمع ہو کر اچن کو ُکم ِیا کہ یروشلیم سے نہ نکلیں بلکہ باپ کے اس وعدے کا انتظار کریں جو وہ کہتا ہے کہ تم نے میرے بارے میں سنا ہے۔ 5کیونکہ یوُنا نے واقعی پانی سے بپتسمہ ِیا۔ لیکن آپ کو روُ القدس سے بپتسمہ زیاِہ ِن نہیں ملے گا۔ 6پس جب وہ اکٹھے ہوئے تو اچنہوں نے اچس سے پچوچھا ،ااے چخداوند ،کیا تچو اجس وقت اجسرائیِ کو باِشاہی ِوبارہ بحال کرے گا؟ 7اور اچس نے اچن سے کہا اچن اوقات یا موسموں کو جاننا آپ کے کام نہیں ججن کو باپ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے۔ 8لیکن جب روُ القدس تم پر نازل ہو گا تم کو طاقت ملے گی اور تم یروشلم اور تمام یہوِیہ اور سامریہ میں اور زمین کے آخری ُصے تک میرے گواہ ہو گے۔ چ چ 9اور جب وہ یہ باتیں کہہ چکا تھا ،جب وہ ِیکھ رہے تھے ،اسے اٹھا لیا گیا۔ اور باِل نے اسے ان کی نظروں سے ِور کر ِیا۔ 10اور جب اچنہوں نے اچس کے اوپر جاتے وقت آسمان کی طرف مڑ کر ِیکھا تو ِو آِمی سفید ملبوسات میں اچن کے پاس کھڑے تھے۔ 11جس نے یہ بھی کہا کہ اے گلیِ کے لوگو ،آسمان کی طرف کیوں کھڑے ہو؟ وہی یسوع جو تم سے آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اسی طرُ آئے گا جس طرُ تم نے اسے آسمان پر جاتے ِیکھا ہے۔ 12پھر وہ زیتون نامی پہاڑ سے یروشلم کو واپس آئے جو یروشلم سے سبت کے ِن کا سفر ہے۔ 13اور جب وہ اندر آئے تو اوپر کے ایک کمرے میں گئے جہاں پطرس اور یعقوب اور یوُنا اور اندریاس ،فلپ اور توماس، برتھولومیو اور متی ،یعقوب بن الفائیس اور شمعون زیلوٹیس رہتے تھے۔ اور جیمز کا بھائی یہوِاہ۔ عیسی کی ماں مریم اور اچس کے بھائیوں کے ساتھ ایک ہی ِل سے ِعا اور منت کرتے رہے۔ 14یہ سب عورتوں اور ی 15اور اچن ِجنوں میں پطرس شاگرِوں کے ِرمیان کھڑا ہوا اور کہنے لگا( ،ایک ساتھ ناموں کی تعداِ تقریبا ا ایک سو بیس تھی) 16ااے بھائیو ،اجس صحیفے کی ضرورت پوری ہو چکی ہو گی ،جو روُ القدس نے ِاؤِ کے منہ سے یہوِاہ کے بارے میں کہی تھی، جو یسوع کو لے جانے والوں کی رہنمائی تھی۔ چ 17کیونکہ وہ ہمارے ساتھ گنے گئے تھے اور اس نے اجس خدمت کا ُصہ ُاصِ کر لیا تھا۔ 18اب اس آِمی نے بدکاری کے صلہ سے ایک کھیت خریدا۔ اور سر کے بِ گرا ،وہ بیچ میں پھٹ گیا ،اور اس کی تمام آنتیں باہر نکِ گئیں۔ 19اور یہ یروشلم کے تمام باشندوں کو معلوم تھا۔ یہاں تک کہ اس کھیت کو ان کی مناسب زبان میں Aceldamaکہا جاتا ہے ،یعنی خون کا میدان۔ چ چ چ 20کیونکہ زبور کی کتاب میں لکھا ہے کہ اس کا مسکن ویران ہو جائے اور اس میں کوئی نہ رہے اور اس کا بشپ کسی ِوسرے کو لے لے۔ 21اجس لیے اجن آِمیوں میں سے جنہوں نے ہر وقت ہمارا ساتھ ِیا جب چخداوند یسوع ہمارے ِرمیان اندر اور باہر گیا۔ 22یوُنا کے بپتسمہ سے شروع ہو کر ،اچسی ِن تک جب وہ ہم سے اچٹھا لیا گیا ،کسی کو ہمارے ساتھ اچس کے جی اچٹھنے کا گواہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ قرر جکیا ججس کا نام یچوسف برصباس تھا ججس کا لقب یوستچس تھا اور متتیاس۔ 23اور اچنہوں نے ِو کو چم ت 24اور اچنہوں نے ِچعا کی اور کہا اے چخداوند جو سب آِمیوں کے ِجلوں کو جانتا ہے تو ِکھا کہ اجن ِونوں میں سے تچو نے چچنا ہے یا نہیں؟ چ سولیت کا ُصہ لے جس سے یہوِاہ خطا کی وجہ سے گرا تاکہ وہ اپنی جگہ چل جائے۔ ر اور خدمت س ا وہ 25تاکہ چ 26اور انہوں نے اپنے قرعہ اال۔ اور قرعہ متھیاس پر پڑا۔ اور وہ گیارہ رسولوں کے ساتھ گنے گئے۔ باب 2 1اور جب پینتیکوست کا ِن پوری طرُ سے آ پہنچا تو وہ سب ایک جگہ ایک ساتھ تھے۔ 2اور اچانک آسمان سے ایک تیز آندھی کی مانند آواز آئی اور اس سے وہ گھر بھر گیا جہاں وہ بیٹھے تھے۔ 3اور اچن کو آگ کی مانند لپٹی ہوئی زبانیں ِکھائی ِیں اور وہ اچن میں سے ہر ایک پر بیٹھ گئیں۔ 4اور وہ سب چرو چُ القچدس سے معمور ہو گئے اور ِوسری زبانیں بولنے لگے اجیسا چروُ نے اچن کو کہا۔ 5اور یروشلم میں آسمان کے نیچے کی ہر قوم میں سے یہوِیِ ،یندار لوگ رہتے تھے۔ 6جب یہ بات ہر طرف شور مچا تو بھیڑ جمع ہو گئی اور شرمندہ ہو گئی کیونکہ ہر ایک نے اچن کو اپنی زبان میں بات کرتے سنا۔ 7اور وہ سب ُیران اور ُیران ہو کر ایک ِوسرے سے کہنے لگے ،کیا یہ سب گلیلی نہیں ہیں؟ 8اور ہم ہر ایک اپنی اپنی زبان سے کیسے سنتے ہیں جس میں ہم پیدا ہوئے؟