زبور باب 1 1ممبارک ہے وہ آدمی جو بے دینوں کے مشورے پر نہیں چلتا ،نہ گنہگاروں کی راہ میں کھڑا ہوتا ہے ،نہ حقیروں کی کرسی پر بیٹھتا ہے۔ 2لیکن وہ مخداوند کی شریعت میں خوش ہے۔ اور وہ اپنی شریعت میں دن رات غور کرتا ہے۔ 3اور وہ امس درخت کی مانند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے کنارے لگایا جاتا ہے جو اپنے موسم میں پھل لتا ہے۔ امس کا پتا بھی نہیں مرجھائے گا۔ اور جو کچھ وہ کرے گا الح پائے گا۔ م 4بے ددین ایسے نہیں ہیں بلکہ امس بھوسے کی مانند ہیں جسے ہوا اڑا دیتی ہے۔ 5ادس دلئے بےدین عدالت میں کھڑے نہیں ہوں گے اور نہ ہی گنہگار راستبازوں کی جماعت میں۔ 6کیونکہ مخداوند راستبازوں کی راہ کو جانتا ہے لیکن بے دینوں کی راہ انا ہو جائے گی۔ باب 2 1قومیں کیوں غصہ کرتی ہیں ،اور لوگ ایک اضول چیز کا تصور کرتے ہیں؟ 2زمین کے بادشاہوں نے اپنے آپ کو کھڑا کیا اور حاکم مل کر یہوواہ اور اس کے ممسوح کے خلف مشورہ کرتے ہیں۔ 3آؤ ہم امن کے بندوں کو توڑ دیں اور امن کی رسیاں ہم سے دور کر دیں۔ 4وہ جو آسمان پر بیٹھا ہے ہنسے گا :خداوند ان کا مذاق اڑائے گا۔ 5تب وہ اپنے غضب میں امن سے بات کرے گا ،اور اپنی سخت ناراضگی میں امن کو پریشان کرے گا۔ 6پھر بھی میں نے اپنے بادشاہ کو اپنی مقدس پہاڑی صیون پر بٹھایا ہے۔ 7میں ارمان کا اعلن کروں گا :خداوند نے مجھ سے کہا ہے کہ تو میرا بیٹا ہے۔ آج میں نے تمہیں جنم دیا ہے۔ 8مجھ سے مانگ تو میں تیری میراث کے لئے قومیں اور زمین کے آخری حصے تیری ملکیت میں دوں گا۔ 9تمو امن کو لوہے کی چھڑی سے توڑ دینا۔ تمو امن کو کمہار کے برتن کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ 10اس لیے اے بادشاہو ،اب عقلمند بنو ،زمین کے قاضیو ،تعلیم حاصل کرو۔ 11خوف کے ساتھ مخداوند کی عبادت کرو اور کانپتے ہوئے خوشی مناؤ۔ 12بیٹے کو بوسہ دو ،ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض ہو اور تم راستے سے ہلک ہو جاؤ ،جب اس کا غضب تھوڑا ہی بھڑکا ہو۔ مبارک ہیں وہ سب جو امس پر بھروسا رکھتے ہیں۔ باب 3 ( 1داؤد کا زبور ،جب وہ اپنے بیٹے ابی سلوم سے بھاگ گیا۔ بہت سے وہ ہیں جو میرے خلف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ 2بہت سے ہیں جو میری جان کے بارے میں کہتے ہیں کہ خدا میں اس کی کوئی مدد نہیں ہے۔ سیلہ۔ 3لیکن اے رب ،تمو میرے لیے ڈھال ہے۔ میرا جلل ،اور میرا سر اٹھانے وال۔ سنی۔ سیلہ۔ 4ممیں نے اپنی آواز سے مخداوند سے اریاد کی اور امس نے اپنی ممقددس پہاڑی سے میری م 5میں نے مجھے لٹا دیا اور سو گیا۔ میں بیدار ہوا؛ کیونکہ رب نے مجھے سنبھال۔ 6ممیں امن دس ہزار لوگوں سے نہیں ڈروں گا جنہوں نے چاروں طرف سے میرے خلف کھڑے ہو گئے ہیں۔ 7امے مخداوند امٹھ !اے میرے خدا ،مجھے بچا۔ تم نے بے دینوں کے دانت توڑ دیے ہیں۔ 8نجات مخداوند کی طرف سے ہے :تیری برکت تیرے لوگوں پر ہے۔ سیلہ۔ باب 4 ( 1نیگینوت کے مرکزی موسیقار کے لیے ،داؤد کا ایک زبور۔ )اے میری راستبازی کے خدا ،جب میں پکارتا ہوں تو میری سن۔ جب میں مصیبت میں تھا تو نے مجھے بڑا کیا۔ مجھ پر رحم ارما ،اور میری دعا سن۔ 2اے بنی آدم ،کب تک میرے جلل کو رسوا کرو گے؟ تم کب تک باطل کو پسند کرو گے ،اور کرائے کی تلش میں رہو گے؟ سیلہ۔ 3لیکن جان لو کہ مخداوند نے امسے الگ کر دیا ہے جو دیندار ہے :جب میں امسے پکاروں گا تو مخداوند سنے گا۔ 4خوازدہ رہو اور گناہ نہ کرو :اپنے بستر پر اپنے دل سے بات کرو ،اور خاموش رہو۔ سیلہ۔ 5راستبازی کی قربانیاں چڑھاؤ اور خداوند پر بھروسہ رکھو۔ 6بہت سے ہیں جو کہتے ہیں کہ کون ہمیں بھلئی دکھائے گا؟ اے مخداوند ،تمو اپنے چہرے کا نور ہم پر بلند کر۔ 7تمو نے میرے ددل میں امس وقت سے زیادہ مخوشی ڈالی جب امن کے اناج اور ممے میں اضااہ ہوا۔ 8میں دونوں کو سکون سے لیٹاؤں گا اور سوؤں گا کیونکہ تمو ہی مجھے سلمتی سے بساتا ہے۔