زکریا باب 1 1دارا کے دوسرے سال کے آٹھویں مہینے میں زکریاہ کے پاس خُداوند کا کلم نازل ہوا جو برکیاہ کا بیٹا تھا اور عدو نبی کا بیٹا تھا۔ ُ2داوند تمہارے باپ دادا سے سخت ناراض ہوا ہے۔ 3ااس لیے اخن سے کہو ،رب الفواج یوں فرماتا ہے۔ رب الفواج فرماتا ہے ،تم میری طرف متوجہ ہو ،اور میں تمہاری طرف متوجہ ہو جاؤں گا ،رب الفواج فرماتا ہے۔ 4تم اپنے باپ دادا کی طرح نہ بنو جن سے پہلے نبیوں نے پکار کر کہا کہ رب الفواج یوں فرماتا ہے۔ اب تم اپنی بخری راہوں اور بخرے سنی اور نہ میری بات مانی ،خُداوند فرماتا ہے۔ کاموں سے باز آؤ ،لیکن اخنہوں نے میری نہ خ 5تمہارے باپ دادا کہاں ہیں؟ اور کیا نبی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؟ 6لیکن میری باتیں اور میرے آئین جن کا میں نے اپنے بندوں نبیوں کو حکم دیا کیا انہوں نے تمہارے باپ دادا کو نہیں پکڑا؟ اور وہ واپس آئے اور کہنے لگے جیسا کہ ربب الفواج نے ہم سے کرنے کا سوچا تھا ،ہماری روش اور ہمارے کاموں کے مطابق اخس نے ہم سے ویسا ہی سلوک کیا۔ 7گیارھویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو جو دارا کے دوسرے سال سبط کا مہینہ ہے ،خُداوند کا کلم زکریاہ بن برکیاہ بن عدو نبی کے پاس پہنچا کہ۔ 8میں نے رات کو دیکھا کہ ایک آدمی سرخ گھوڑے پر سوار ہے اور وہ مرٹل کے درُتوں کے درمیان کھڑا ہے جو نیچے تھے۔ اور اس کے پیچھے سرخ گھوڑے تھے ،دھبوں والے اور سفید۔ 9تب میں نے کہا اے میرے مالک یہ کیا ہیں؟ اور جو فرشتہ مجھ سے باتیں کرتا تھا اس نے مجھ سے کہا ،میں تمہیں دکھاؤں گا کہ یہ کیا ہیں۔ 10اور اس آدمی نے جو مرٹل کے درُتوں کے درمیان کھڑا تھا جواب دیا کہ یہ وہی ہیں جنہیں ُداوند نے زمین پر چلنے پھرنے کے لئے بھیجا ہے۔ خ فرشتہ کو جو مرٹل کے درُتوں کے درمیان کھڑا تھا جواب دیا اور کہا کہ ہم زمین میں اادھر اخدھر پھرے کے داوند ُ نے 11اور اخنہوں ا ہیں اور دیکھو ساری زمین ساکن بیٹھی ہے اور آرام سے ہے۔ فرشتہ نے جواب میں کہا اے ربب الفواج تخو کب تک یروشلیم اور یہوداہ کے شہروں پر رحم نہ کرے گا جن پر تخو 12تب خُداوند کے ا ساٹھ سال سے غضب ناک رہا؟ 13اور خُداوند نے اخس فرشتے کو جو خمجھ سے بات کرتا تھا اچ ھھی باتوں اور آرام دہ باتوں سے جواب دیا۔ 14پس جو فرشتہ مجھ سے بات کرتا تھا اس نے مجھ سے کہا کہ یہ کہہ کر پکارو کہ رب الفواج یوں فرماتا ہے۔ میں یروشلم اور صیون کے لیے بڑی غیرت کے ساتھ جلتا ہوں۔ خ 15اور ممیں اخن قوموں سے بہت ناراض ہوں جو آرام سے ہیں کیونکہ ممیں تھوڑا سا ناراض تھا اور انہوں نے مصیبت کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔ 16اس لئے ُداوند یوں فرماتا ہے۔ ممیں رحم کے ساتھ یروشلم کو لوٹا گیا ہوں ،میرا گھر اخس میں تعمیر کیا جائے گا ،رب الفواج فرماتا ہے ،اور یروشلم پر ایک لکیر پھیلئی جائے گی۔ 17پھر بھی پکارو کہ رب الفواج یوں فرماتا ہے۔ ُوشحالی کے ذریعے میرے شہر ابھی تک بیرون ملک پھیل جائیں گے۔ اور ُداوند پھر بھی صیون کو تسلی دے گا اور یروشلم کو چن لے گا۔ 18تب میں نے اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو چار سینگ نظر آئے۔ فرشتہ سے جو خمجھ سے باتیں کرتا تھا کہا یہ کیا ہیں؟ اخس نے مجھے جواب دیا” ،یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے 19اور ممیں نے اخس ا یہوداہ ،اسرائیل اور یروشلم کو پراگندہ کر دیا ہے۔ 20اور ُداوند نے مجھے چار بڑھئی دکھائے۔ 21تب میں نے کہا یہ کیا کرنے آئے ہیں؟ اور اخس نے کہا یہ وہ سینگ ہیں اجن نے ی خہودا ہ کو پراگندہ کر دیا ہے کہ کسی نے اپنا سر نہ اخٹھایا لیکن یہ اخن کو بھڑکانے کے لیے آئے ہیں تاکہ اخن غیر قوموں کے سینگوں کو نکال دیں جنہوں نے یہوداہ کی سرزمین پر اپنا سینگ اخٹھایا تاکہ اخسے پراگندہ کریں۔ باب 2 1ممیں نے پھر آنکھیں اخٹھا کر دیکھا تو ایک آدمی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں پیمائش کی لکیر تھی۔ 2تب ممیں نے کہا تخو کدھر جاتا ہے؟ اور اخس نے خمجھ سے کہا کہ یروشلم کی پیمائش کرنا کہ اخس کی چوڑائی کیا ہے اور اخس کی لمبائی کتنی ہے۔ فرشتہ اخس سے املنے کو ناکل۔ دوسرا اور کل ن تھا کرتا باتیں سے جھ م جو شتہ فر وہ دیکھو 3اور ا خ ا ا خ خ 4اور اس سے کہا دوڑ کر ااس جوان سے کہو کہ یروشلم اس میں آدمیوں اور مویشیوں کی بھیڑ کے لیے بغیر دیواروں کے شہر آباد ہو گا۔ 5کیونکہ خُداوند فرماتا ہے کہ ممیں اخس کے لیے چاروں طرف آگ کی دیوار ہوں گا اور اخس کے درمیان جلل ہو گا۔