Skip to main content

Urdu - The Book of Prophet Jonah

Page 1

‫یونس‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬اب خُداوند کا کلم یونس بن امیتائی پر نازل ہوا کہ۔‬ ‫‪2‬اخٹھ‪ ،‬اخس عظیم شہر نینوہ کو جا اور اخس کے ُلف پکار۔ کیونکہ ان کی شرارتیں میرے سامنے آ گئی ہیں۔‬ ‫‪3‬لیکن یوناہ ُداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگنے کے لئے اخٹھا اور یافا کو گیا۔ اور اخسے ترسیس جانے والی ایک‬ ‫کشتی ملی۔ سو اخس نے اخس کا کرایہ ادا کیا اور اخس میں اختر کر اخن کے ساتھ رب کے حضور سے ترسیس کو گیا۔‬ ‫‪4‬لیکن خُداوند نے سمندر میں ایک بڑی آندھی بھیجی اور سمندر میں ایک زبردست آندھی چلی کہ جہاز ٹوٹنے کی مانند‬ ‫تھا۔‬ ‫‪5‬تب بحری جہاز ڈر گئے اور ہر ایک اپنے دیوتا کو پکارا اور جو سامان جہاز میں تھا سمندر میں پھینک دیا تاکہ ان‬ ‫سے ہلکا ہو جائیں۔ لیکن یوناہ جہاز کے اطراف میں جا گرا تھا۔ اور وہ لیٹ گیا اور گہری نیند سو رہا تھا۔‬ ‫‪6‬تو جہاز کا مالک اخس کے پاس آیا اور اخس سے کہا اے سونے والے تیرا مطلب کیا ہے؟ اٹھو‪ ،‬اپنے ُدا کو پکارو‪ ،‬اگر‬ ‫ایسا ہے کہ ُدا ہمارے بارے میں سوچے گا‪ ،‬کہ ہم ہلک نہ ہوں‪.‬‬ ‫‪7‬اور اخنہوں نے اپنے اپنے ساتھی سے کہا آؤ ہم قرعہ ڈالیں تاکہ معلوم کریں کہ یہ مصیبت ہم پر کس کی وجہ سے آئی‬ ‫ہے۔ چنانچہ اخنہوں نے قرعہ ڈال اور قرعہ یونس پر پڑا۔‬ ‫‪8‬تب اخنہوں نے اخس سے کہا کہ ہمیں بتاؤ کہ ہم پر یہ بخرائی کس کی وجہ سے آئی ہے؟ آپ کا پیشہ کیا ہے؟ اور تم کہاں‬ ‫سے آئے ہو؟ آپ کا ملک کیا ہے؟ اور تم کن لوگوں میں سے ہو؟‬ ‫‪9‬اخس نے اخن سے کہا ممیں عبرانی ہوں۔ اور میں ُداوند آسمان کے ُدا سے ڈرتا ہوں جس نے سمندر اور ُشک زمین‬ ‫کو بنایا ہے۔‬ ‫خ‬ ‫خ‬ ‫خ‬ ‫‪10‬تب وہ لوگ بہت ڈر گئے اور اس سے کہا تو نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ وہ لوگ جانتے تھے کہ وہ ُداوند کے‬ ‫حضور سے بھاگ گیا کیونکہ اخس نے اخن سے کہا تھا۔‬ ‫‪11‬تب اخنہوں نے اخس سے کہا کہ ہم تیرے ساتھ کیا کریں تاکہ سمندر ہمارے لیے پرسکون ہو؟ سمندر کی وجہ سے‪ ،‬اور‬ ‫طوفانی تھا‪.‬‬ ‫‪12‬اور اخس نے اخن سے کہا‪ ،‬مجھے اخوپر لے جاؤ اور سمندر میں پھینک دو۔ یوں سمندر تمہارے لیے پرسکون ہو جائے‬ ‫گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میری ُاطر یہ بڑا طوفان تم پر ہے۔‬ ‫‪13‬پھر بھی آدمیوں نے اخسے زمین پر لنے کے لیے سخت کشت ماری۔ لیکن وہ نہ کر سکے۔‬ ‫‪14‬ااس الئے اخنہوں نے خُداوند سے فریاد کی اور کہا امے خُداوند ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ہم ااس آدمی کی جان کو‬ ‫ہلک نہ کریں اور ہم پر بے گناہ کا ُون نہ ڈالیں کیونکہ تخو نے امے خُداوند جیسا چاہا اکیا۔ تم‬ ‫‪15‬سو اخنہوں نے یخوناہ کو اخٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور سمندر اپنے غصے سے رک گیا۔‬ ‫‪16‬تب وہ لوگ خُداوند سے بے حد ڈرے اور خُداوند کے الئے قخربانی چڑھائی اور نذریں مانیں۔‬ ‫‪17‬اب ُداوند نے یوناہ کو نگلنے کے لئے ایک بڑی مچھلی تیار کی تھی۔ اور یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے‬ ‫پیٹ میں رہا۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪1‬تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ سے ُداوند اپنے ُدا سے دعا کی۔‬ ‫‪2‬اور کہا میں نے اپنی مصیبت کے سبب سے ُداوند سے فریاد کی اور اس نے میری سنی۔ جہنم کے پیٹ سے میں نے‬ ‫پکارا‪ ،‬اور آپ نے میری آواز سنی۔‬ ‫‪3‬کیونکہ تخو نے مجھے گہرائیوں میں سمندروں کے بیچ میں پھینک دیا تھا۔ اور سیلب نے مجھے گھیر لیا۔‬ ‫‪4‬تب ممیں نے کہا‪ ،‬ممیں تیری نظروں سے ُارج ہو گیا ہوں۔ پھر بھی میں تیرے مقدس ہیکل کی طرف دیکھوں گا۔‬ ‫‪5‬پانی نے مجھے گھیر لیا‪ ،‬یہاں تک کہ روح تک ‪:‬گہرائی نے مجھے چاروں طرف سے بند کر دیا‪ ،‬جھاڑیوں نے میرے‬ ‫سر کو لپیٹ لیا۔‬ ‫‪6‬میں پہاڑوں کی تہہ تک گیا زمین اپنی سلُوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے میرے اردگرد رہی‪ ،‬لیکن اے رب میرے ُدا‪،‬‬ ‫تخو نے میری زندگی کو بگاڑ سے نکال۔‬ ‫‪7‬جب میری جان میرے اندر بے ہوش ہو گئی تو میں نے ُداوند کو یاد کیا اور میری دعا تیرے پاس تیری مقدس ہیکل‬ ‫میں آئی۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Book of Prophet Jonah by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu