ہوسیا۔ باب 1 یُبعام بن یوآس کے 1رخداوند کا وِ کلم جو بیُی کے بیٹے ہوسیع پُ یہوداِ کے بادشاِ ر ُزیاِ ،یوتام ،آخز اور حزقیاِ اور شا ہِ اسُائیل ر دنوں میں نازل ہوا۔ 2خداوند کے کلم کا آغاز ہوسیع کے ذریعہ ہوا۔ اور رخداوند نے ہوسیع سے کہا جا اور زناکاروں کی بیوی اور زناکاروں کے بچوں کو اپنے پاس لے جا کیونکہ ملک نے رخداوند سے ہٹ کُ بڑی زناکاری کی ہے۔ 3سو وِ گیا اور دبلئم کی بیٹی گومُ کو لے گیا۔ جو حاملہ ہوئی ،اور اس کے لیے بیٹا پیدا ہوا۔ 4اور رخداوند نے ارس سے کہا ارس کا نام یزرُیل رکھ۔ ابھی تھوڑی دیُ کے لیے ،اور میں یاہو کے گھُانے سے یزرُیل کے خون کا بدلہ لوں گا اور اسُائیل کے گھُانے کی بادشاہی کو ختم کُ دوں گا۔ 5اور اس دن ایسا ہو گا کہ میں یزرُیل کی وادی میں اسُائیل کی کمان کو توڑ ڈالوں گا۔ لورہامہ رکھ کیونکہ ممیں اب اسُائیل کے 6اور وِ پھُ حاملہ ہوئی اور ایک بیٹی کو جنم دیا۔ اور رخدا نے ارس سے کہا ارس کا نام ر گھُانے پُ رحم نہیں کُوں گا۔ لیکن ممیں ارنہیں پوری طُح سے لے جاؤں گا۔ 7لیکن میں یہوداِ کے گھُانے پُ رحم کُوں گا اور خداوند ان کے خدا کے ذریعہ ان کو بچاؤں گا اور نہ کمان سے نہ تلوار سے نہ جنگ سے نہ گھوڑوں سے اور نہ گھڑ سواروں سے بچاؤں گا۔ 8جب ارس نے لورہامہ کا دودھ چھڑایا تو وِ حاملہ ہوئی اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 9تب رخدا نے کہا ارس کا نام لوُ ممی رکھ کیونکہ ترم میُے لوگ نہیں اور ممیں ترمہارا رخدا نہ رہ روں گا۔ 10تو بھی بنی اسُائیل کی تعداد سمندر کی ریت کی مانند ہو گی جو ناپی جا سکتی ہے نہ گنی جا سکتی ہے۔ اور ایسا ہو گا کہ جس جگہ ان سے کہا گیا تھا کہ تم میُے لوگ نہیں ہو وہاں ان سے کہا جائے گا کہ تم زندِ خدا کے بیٹے ہو۔ 11تب بنی یہوداِ اور بنی اسُائیل اکٹھے ہوں گے اور اپنے آپ کو ایک سُ مقُر کُیں گے اور وِ ملک سے باہُ آئیں گے کیونکہ یزرُیل کا دن بڑا ہو گا۔ باب 2 1تم اپنے بھائیوں سے کہو ،ا ممی۔ اور تمہاری بہنوں روحامہ کو۔ 2اپنی ماں سے التجا کُو ،کیونکہ وِ میُی بیوی نہیں ،نہ میں اس کا شوہُ ہوں۔ اس لیے وِ اپنی زناکاری کو اپنی نظُوں سے دور کُ دے ،اور اپنی زنا کو اپنے سینوں کے درمیان سے دور کُ دے۔ 3ایسا نہ ہو کہ ممیں ارسے بُہنہ کُ دوں اور ارس کو ارس دن کی طُح کھڑا کُ دوں جس دن وِ پیدا ہوئی تھی اور ارسے بیابان کی مانند کُ دوں اور ارسے خشک زمین کی طُح کُ دوں اور ارسے پیاس سے مار ڈالوں۔ 4اور میں اس کے بچوں پُ رحم نہیں کُوں گا۔ کیونکہ وِ بدکاری کے بچے ہیں۔ 5کیونکہ ارن کی ماں نے بدکاری کی ہے اور جس نے ارن کو حاملہ کیا ہے بے شُمی کا کام کیا ہے کیونکہ ارس نے کہا کہ میں اپنے ُاشقوں کے پیچھے چلوں گی جو مجھے میُی روٹی اور میُا پانی ،میُی اون اور میُا سن ،میُا تیل اور میُا پینے دیں۔ 6اہس ہلئے دیکھ ممیں تیُے راستے کو کانٹوں سے رو رکوں گا اور ایسی دیوار بناؤں گا کہ وِ اپنے راستے نہ پائے۔ 7اور وِ اپنے چاہنے والوں کا پیچھا کُے گی ،لیکن ارن پُ قابو نہیں پائے گی۔ اور وِ ارن کو ڈھونڈے گی لیکن نہ ملے گی۔ تب وِ کہے گی ،میں جا کُ اپنے پہلے شوہُ کے پاس واپس آؤں گی۔ کیونکہ اس وقت میُے ساتھ یہ اب سے بہتُ تھا۔ ر 8کیونکہ وِ نہیں جانتی تھی کہ ممیں نے ارسے اناج اور ممے اور تیل دیا اور ارس کی چاندی اور سونا کئی گنا بڑھایا جو انہوں نے بعل کے لیے تیار کیا۔ ر ر ر 9اہس لیے ممیں واپس آؤں گا اور اس کے وقت میں اپنا اناج اور اس کے موسم میں اپنی ممے لے جاؤں گا ،اور اس کی بُہنگی کو ڈھانپنے کے لیے دی گئی اپنی ارون اور اپنا سنہ واپس لے لوں گا۔ 10اور اب ممیں ارس کے چاہنے والوں کے سامنے ارس کی بے حیائی کا پتا چلوں گا اور کوئی ارسے میُے ہاتھ سے نہ چھڑائے گا۔ 11میں ارس کی تمام خوشیوں کو ،ارس کی ُیدوں کے دن ،ارس کے نئے چاندوں ،ارس کے سبتوں اور ارس کی تمام پُوقار ُیدوں کو بھی ختم کُ دوں گا۔ ر ر 12اور ممیں ارس کی انگور کی بیلوں اور اس کے انجیُ کے درختوں کو تباِ کُ دوں گا جن کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ یہ میُے انعامات ہیں جو میُے چاہنے والوں نے مجھے دیئے ہیں اور میں ارن کو جنگل بناؤں گا اور میدان کے جانور ارن کو کھائیں گے۔ 13اور ممیں ارس پُ بع ہلیم کے ارن دنوں کی تعاقب کُوں گا جن میں ارس نے ارن کے ہلئے ب رُور جلیا اور اپنی بالیوں اور زیورات سے آراستہ کیا اور وِ اپنے ُاشقوں کے پیچھے چلی گئی اور رمجھے بھول گئی رخداوند فُماتا ہے۔ 14اہس ہلئے دیکھو ممیں ارسے مائل کُوں گا اور ارسے بیابان میں لؤں گا اور ارس سے آرام سے بات کُوں گا۔ 15اور میں ارسے وہاں سے انگور کے باغ اور ُکور کی وادی ارمید کے دروازے کے لیے دوں گا اور وِ وہاں گائے گی جیسا کہ اپنی جوانی کے دنوں میں اور ارس دن کی طُح جب وِ ملک مصُ سے نکلی تھی۔ 16اور ارس دن ایسا ہو گا کہ رخداوند فُماتا ہے کہ ترو مجھے اہشی کہے گا۔ اور مجھے اب بالی نہیں کہے گا۔ 17کیونکہ میں بعل کے نام ارس کے منہ سے نکال دوں گا اور ارن کو ارن کے نام سے پھُ یاد نہیں کیا جائے گا۔