Skip to main content

Urdu - The Book of Prophet Ezekiel

Page 1

‫حزقیل‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬اور تیسویں سال کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ میں جب میں دریائے کبار کے کنارے قیدیوں کے درمیان تھا تو آسمان کھل‬ ‫گیا اور میں نے خدا کی رویا دیکھی۔‬ ‫‪2‬مہینے کے پانچویں دن جو بادشاہ یہویاکین کی اسیری کا پانچواں سال تھا۔‬ ‫‪ 3‬بخداوند کا کلم صریح طور پر حزقی ایل کاہن پر جو ببزی کا بیٹا تھا کسدیوں کے ملک میں دریائے کبار کے کنارے پر آیا۔ اور‬ ‫خداوند کا ہاتھ اس پر تھا۔‬ ‫‪4‬اور ممیں نے ننگاہ کی اور کیا دیکھتا ہ بوں کہ شمال کی طرف سے ایک آندھی ننکلی‪ ،‬ایک بڑا بادل اور آگ اپنے آپ کو لپیٹ رہی ہے‬ ‫اور ابس کے گرد ایک چمک تھی اور ابس کے درمیان سے عنبر کا رنگ آگ کے درمیان سے نکل رہا تھا۔‬ ‫‪5‬اور ابس کے درمیان سے چار جانداروں کی صورت نکلی۔ اور یہ ان کی شکل تھی۔ وہ ایک آدمی کی طرح تھا‪.‬‬ ‫‪6‬اور ہر ایک کے چار چہرے تھے اور ہر ایک کے چار پر تھے۔‬ ‫‪7‬اور ابن کے پاؤں سیدھے تھے۔ اور ابن کے پاؤں کا تلوا بچھڑے کے پاؤں کی طرح تھا اور وہ جلے ہوئے پیتل کے رنگ کی طرح‬ ‫چمک رہے تھے۔‬ ‫‪8‬اور ابن کے چاروں طرف پروں کے نیچے ایک آدمی کے ہاتھ تھے۔ اور ان چاروں کے چہرے اور پر تھے۔‬ ‫‪9‬ان کے پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جب وہ گئے تو وہ نہ مڑے۔ وہ ہر ایک کو براہ راست آگے بڑھا‪.‬‬ ‫‪10‬جہاں تک ابن کے چہروں کی مشابہت ہے تو ابن چاروں کا چہرہ آدمی جیسا اور دائیں طرف شیر کا چہرہ تھا اور ابن چاروں کا بائیں‬ ‫طرف بیل کا چہرہ تھا۔ ان چاروں کا چہرہ بھی عقاب جیسا تھا۔‬ ‫‪11‬ابن کے چہرے یوں تھے اور ابن کے پمر اوپر کی طرف پھیلے ہوئے تھے۔ ہر ایک کے دو پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے‬ ‫اور دو نے اپنے جسم کو ڈھانپ لیا تھا۔‬ ‫‪12‬اور وہ ہر ایک سیدھے آگے بڑھے ‪:‬جہاں روح کو جانا تھا وہیں گئے۔ اور جب وہ گئے تو وہ نہ مڑے۔‬ ‫‪13‬جہاں تک جانداروں کی مثال کا تعلق ہے تو ابن کی شکل آگ کے کوئلوں کی سی تھی اور چراغوں کی طرح۔ وہ جانداروں کے‬ ‫درمیان اوپر نیچے جاتی تھی۔ اور آگ روشن تھی اور آگ سے بجلی نکلتی تھی۔‬ ‫‪14‬اور جاندار بھاگے اور بجلی کی چمک کی طرح واپس آئے۔‬ ‫‪15‬اب جب ممیں نے جانداروں کو دیکھا تو ایک پہیہ زمین پر ابس کے چار چہروں کے ساتھ جانداروں کی طرف سے دیکھا۔‬ ‫‪16‬پہیوں کی شکل اور ان کا کام بیریل کے رنگ جیسا تھا اور ان چاروں کی ایک ہی مشابہت تھی اور ان کی شکل اور کام ایسا تھا‬ ‫جیسے وہ پہیے کے بیچ میں ایک پہیہ ہو۔‬ ‫‪17‬جب وہ گئے تو چاروں طرف سے چلے گئے اور جاتے وقت وہ نہ مڑے۔‬ ‫‪18‬جہاں تک ان کی انگوٹھیوں کا تعلق ہے تو وہ اتنے اونچے تھے کہ وہ خوفناک تھے۔ اور ان کے حلقے ان کے چاروں اطراف‬ ‫آنکھوں سے بھرے ہوئے تھے۔‬ ‫‪19‬اور جب جاندار جاتے تھے تو پہیے ابن کے پاس سے جاتے تھے اور جب جاندار زمین پر سے ابٹھائے جاتے تھے تو پہیے ابوپر ابٹھ‬ ‫جاتے تھے۔‬ ‫‪20‬جہاں بھی روح کو جانا تھا وہ گئے‪ ،‬وہیں ان کی روح کو جانا تھا۔ اور پہیے ابن کے اوپر ابٹھے ہوئے تھے کیونکہ جاندار کی روح‬ ‫پہیوں میں تھی۔‬ ‫‪21‬جب وہ گئے تو یہ بھی گئے۔ اور جب وہ کھڑے ہوئے تو یہ کھڑے ہو گئے۔ اور جب وہ زمین سے ابٹھائے گئے تو پہیے ابن پر‬ ‫ابٹھائے گئے کیونکہ جاندار کی روح پہیوں میں تھی۔‬ ‫‪22‬اور جانداروں کے سروں پر آسمان کی مشابہت ابن کے سروں کے اوپر پھیلی ہوئی خوفناک کرسٹل کی طرح تھی۔‬ ‫‪23‬اور آسمان کے نیچے ابن کے پر ایک دوسرے کی طرف سیدھے تھے ‪:‬ہر ایک کے دو دو تھے جو انس طرف سے ڈھکے ہوئے‬ ‫تھے اور ہر ایک کے دو دو تھے جو ابس طرف ڈھکے ہوئے تھے۔‬ ‫قادر مطلق کی آواز‪ ،‬گویائی کی‬ ‫طرح‪،‬‬ ‫کی‬ ‫شور‬ ‫کے‬ ‫پانی‬ ‫بڑے‬ ‫جیسے‬ ‫‪24‬اور جب وہ گئے تو ممیں نے ابن کے پروں کی آواز سنی‪،‬‬ ‫ن‬ ‫آواز‪ ،‬کسی لشکر کے شور کی مانند‪ ،‬جب وہ کھڑے ہوئے تو اپنے پروں کو نیچے کر دیا۔‬ ‫‪25‬اور ابن کے سروں کے ابوپر آسمان سے ایک آواز آئی جب وہ کھڑے ہو کر اپنے پمروں کو گرا رہے تھے۔‬ ‫‪26‬اور آسمان کے اوپر جو ابن کے سروں کے اوپر تھا ایک تخت کی سی شکل تھی جیسے نیلم کے پتھر کی شکل میں اور تخت کی‬ ‫مشابہت ابس کے اوپر ایک آدمی کی شکل کی طرح تھی۔‬ ‫ب‬ ‫ب‬ ‫‪27‬اور ممیں نے عنبر کا رنگ اور ابس کے چاروں طرف آگ کی طرح دیکھا‪ ،‬اس کی کمر کی ظاہری شکل سے اوپر کی طرف اور‬ ‫ابس کی کمر کی ظاہری شکل سے بھی نیچے کی طرف‪ ،‬ممیں نے دیکھا کہ وہ آگ کی شکل ہے اور ابس کے چاروں طرف چمک تھی۔‬ ‫‪28‬جس طرح بارش کے دن بادل میں کمان کی شکل ویسی ہی چمک چاروں طرف تھی۔ یہ رب کے جلل کی صورت تھی۔ اور جب‬ ‫ممیں نے ابسے دیکھا تو بمنہ کے بل گر پڑا اور ممیں نے بولنے والے کی آواز سنی۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪1‬اور ابس نے بمجھ سے کہا اے آدم زاد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جا اور میں تجھ سے بات کروں گا۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - The Book of Prophet Ezekiel by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu