Skip to main content

Urdu - 4th Book of Maccabees

Page 1

‫کی چوتھی کتاب‬ ‫تعارف‬ ‫یہ کتاب ایک خوفناک گرج کی مانند ہے جو قدیم ظلم کی مدھم ہولناکیوں سے گونج رہی ہے۔ یہ شام کے ظالم انٹیوکس کے ظلم و ستم پر‬ ‫مبنی ایک باب ہے‪ ،‬جسے کچھ لوگ ایپی فینس‪ ،‬دی پاگل کہتے تھے۔ پہلی صدیوں کی رومن تاریخ میں دو ایسے ظالموں کو ریکارڈ کیا‬ ‫گیا ہے ‪ -‬دوسرا‪ ،‬کیلیوول‪ ،‬دوسرا شاندار پاگل۔‬ ‫اس تحریر کی شکل تقریر کی ہے۔ تقریر کے عروج و زوال کا وقت بہت احتیاط سے ہے۔ اس کے دلئل اتنے تباہ کن ہیں۔ اس کی منطق‬ ‫اتنی غیر متزلزل ہے۔ اتنے گہرے اس کے زور اس کے استدلل کو اتنا ٹھنڈا کریں‪ --‬کہ یہ سراسر فصاحت کے نمونے کے طور پر‬ ‫اپنی جوہ لے لیتا ہے۔‬ ‫کلیدی بات ہے ‪ -‬ہمت۔ مصنف نے فلسفہ الہامی وجہ کے جذباتی بیان سے آغاز کیا ہے۔ ہم اس بیسویں صدی کو عقل کی عمر کے طور‬ ‫پر سوچنا پسند کرتے ہیں اور اسے خرافات کے زمانے سے متضاد کرنا چاہتے ہیں ‪ -‬پھر بھی اس طرح کی تحریر ایسے مفروضے‬ ‫کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ہمیں ایک ایسا مصنف ملتا ہے جو غالبا ا مسیحی دور سے پہلے کی پہلی صدی سے تعلق رکھتا تھا جس نے‬ ‫عقل کا ایک واضح فلسفہ بیان کیا جو آج بھی اتنا ہی طاقتور ہے جتنا کہ دو ہزار سال پہلے تھا۔‬ ‫ٹارچر چیمبرز میں مشاہدات کی ترتیب بے لوام ہے۔ ہمارے جدید کانوں پر نرم چیزوں سے ہم آہنگ یہ خوفناک حد تک مارتا ہے۔ پے‬ ‫درپے اذیتوں کی تفصیل (صدیوں بعد ہسپانوی تحقیقات کے آلت کی تجویز) ہمارے ذائقے کو چونکا دینے والے انداز میں بیان کی گئی‬ ‫ہے۔ یہاں تک کہ بوڑھے آدمی‪ ،‬سات بھائیوں اور ماں کے مزاحیہ کرداروں کا ظہور بھی اس بے رحمی کو نرم کرنے کے لیے کچھ‬ ‫نہیں کرتا جس کے ساتھ اس خطیب نے ہمت کو جنم دیا۔‬ ‫اعلی اخلقی قدر‬ ‫کرسچن کلیسیا کے قدیم فادرز نے اس کتاب کو احتیاط سے محفوظ کیا (یہ ہمارے پاس شامی ترجمہ سے ہے) ایک‬ ‫ی‬ ‫اور تعلیم کے کام کے طور پر‪ ،‬اور یہ بلشبہ بہت سے ابتدائی مسیحی شہداء سے واقف تھی‪ ،‬جو اسے پڑھ کر شہادت کی منزل پر‬ ‫آگئے تھے۔‬ ‫باب ‪1‬‬

‫اعلی فکر حاصل نہیں کی۔ "جبر" کی بحث۔ آیت ‪ 48‬بنی نوع‬ ‫الہامی وجہ سے متعلق قدیم زمانے کے فلسفے کا خاکہ۔ تہذیب نے کبھی‬ ‫ی‬ ‫انسان کے پورے فلسفے کا خلصہ کرتی ہے۔‬ ‫اعلی درجے کا وہ سوال ہے جس پر میں بحث کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں‪ ،‬یعنی کیا الہامی وجہ جذبات پر سب سے زیادہ‬ ‫‪ 1‬فلسفیانہ‬ ‫ی‬ ‫حاکم ہے؛ اور اس کے فلسفے کی طرف میں سنجیدگی سے آپ کی توجہ کی درخواست کروں گا۔‬ ‫‪ 2‬کیونکہ علم کی ایک شاخ کے طور پر نہ صرف یہ مضمون ضروری ہے‪ ،‬بلکہ اس میں سب سے بڑی خوبیوں کی تعریف بھی شامل‬ ‫ہے‪ ،‬جس سے میرا مطلب خود پر قابو ہے۔‬ ‫‪ 3‬کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر استدلل مزاج‪ ،‬لطافت اور شہوت کے مخالف جذبات پر قابو پانے کے لیے ثابت ہو جائے تو یہ بھی‬ ‫واضح طور پر شہوتوں جیسے بدکاری‪ ،‬عدل کے مخالف اور مردانوی کے مخالف یعنی غصہ‪ ،‬درد اور خوف پر بھی غالب دکھائی‬ ‫دیتی ہے۔‬ ‫‪ 4‬لیکن‪ ،‬کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں‪ ،‬اگر وجہ جذبات کا مالک ہے‪ ،‬تو یہ بھول جانے اور جہالت پر قابو کیوں نہیں رکھتا؟ ان کا مقصد‬ ‫مذاق اڑانا ہے۔‬ ‫‪ 5‬اس کا جواب یہ ہے کہ عقل اپنے دماغ میں موروثی نقائص پر نہیں بلکہ ان جذبات یا اخلقی خرابیوں پر عبور رکھتی ہے جو انصاف‬ ‫اور مردانوی اور مزاج اور فیصلہ کے منافی ہیں۔ اور ان کے معاملے میں اس کا عمل جذبات کو ختم کرنا نہیں ہے‪ ،‬بلکہ ہمیں ان کا‬ ‫کامیابی سے مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔‬ ‫‪ 6‬میں آپ کے سامنے بہت سی مثالیں ل سکتا ہوں‪ ،‬جو مختلف ذرائع سے اخذ کی گئی ہیں‪ ،‬جہاں عقل نے اپنے آپ کو جذبات پر ماہر‬ ‫ثابت کیا ہے‪ ،‬لیکن اب تک کی سب سے اچھی مثال جو میں دے سکتا ہوں وہ ان لوگوں کا حسن سلوک ہے جو نیکی کی خاطر مر‬ ‫گئے‪ ،‬الیعزر‪ ،‬اور سات بھائی اور ماں۔‬ ‫‪ 7‬کیونکہ ان سب نے اپنے درد کی حقارت سے‪ ،‬ہاں‪ ،‬یہاں تک کہ موت تک‪ ،‬ثابت کیا کہ عقل جذبات سے برتر ہے۔‬ ‫‪ 8‬میں یہاں ان کی خوبیوں کی تعریف میں اضافہ کر سکتا ہوں‪ ،‬وہ‪ ،‬ماں کے ساتھ مرد‪ ،‬اس دن مرتے ہوئے ہم اخلقی خوبصورتی اور‬ ‫اچھائی کی محبت کے لیے مناتے ہیں‪ ،‬بلکہ میں انھیں ان اعزازات پر مبارکباد پیش کروں گا جو انھوں نے حاصل کیے ہیں۔‬ ‫‪ 9‬کیونکہ نہ صرف پوری دنیا میں بلکہ ان کے جلدوں کی طرف سے ان کی ہمت اور استقامت کی تعریف نے انہیں اس ظلم کے زوال‬ ‫کا مصنف بنا دیا جس میں ہماری قوم پڑی تھی‪ ،‬انہوں نے اپنی استقامت سے ظالم کو شکست دی‪ ،‬تاکہ ان کے ذریعے ان کا ملک پاک‬ ‫ہو۔‬ ‫‪ 10‬لیکن میں فی الحال اس پر بحث کرنے کا موقع لوں گا‪ ،‬جب ہم عام نظریہ کے ساتھ شروع کر دیں گے‪ ،‬جیسا کہ میں کرنے کی‬ ‫عادت میں ہوں‪ ،‬اور پھر میں ان کی کہانی کی طرف بڑھوں گا‪ ،‬اور حکیم خدا کی تمجید کروں گا۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - 4th Book of Maccabees by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu