Skip to main content

Urdu - 1st Book of Adam and Eve

Page 1

‫آدم اور حوا کی پہلی کتاب‬ ‫باب ‪1‬‬ ‫‪1‬تیسرے دن‪ ،‬خُدا نے زمین کے مشرق میں‪ ،‬مشرق کی طرف دنیا کی سرحد پر باغ لگایا‪ ،‬جس سے آگے سورج نکلتے وقت‪ ،‬پانی کے‬ ‫سوا کچھ نہیں ملتا‪ ،‬جو ساری دنیا کو گھیرے ہوئے ہے‪ ،‬اور آسمان کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے۔‬ ‫‪ 2‬اور باغ کے شمال کی طرف وفر کا ایک سمندر ہے جو ذائقہ کے لحاظ سے صاف اور پاکیزہ ہے جیسا کہ کسی اور چیز کی طرح‬ ‫نہیں۔ تاکہ اس کی صفائی سے زمین کی گہرائیوں میں جھانک سکے۔‬ ‫‪ 3‬اور جب آدمی اخس میں دھوتا ہے تو اخس کی صفائی سے پاک ہو جاتا ہے اور اخس کی سفیدی سے سفید ہو جاتا ہے ُواہ وہ سیاہ ہی‬ ‫کیوں نہ ہو۔‬ ‫‪ 4‬اور خُدا نے اخس سمندر کو اپنی ُوشنودی کے لیے بنایا‪ ،‬کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اخس آدمی کے بارے میں کیا ہو گا جسے اخسے بنانا‬ ‫چاہیے۔ تاکہ وہ باغ چھوڑنے کے بعد‪ ،‬اس کی ُطا کی وجہ سے‪ ،‬زمین پر ایسے آدمی پیدا ہوں‪ ،‬جن میں سے نیک لوگ مر جائیں‪ ،‬جن‬ ‫کی روحوں کو ُدا آُری دن زندہ کرے گا۔ جب انہیں اپنے جسم میں واپس آنا چاہئے؛ اس سمندر کے پانی میں نہانا چاہیے اور وہ سب‬ ‫اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔‬ ‫‪ 5‬لیکن جب خُدا نے آدم کو باغ سے باہر کرایا تو اخس نے اخسے شمال کی طرف سرحد کی سرحد پر نہیں رکھا‪ ،‬ایسا نہ ہو کہ وہ پانی‬ ‫کے سمندر کے قریب پہنچ جائیں‪ ،‬اور وہ اور حوا اخس میں نہا لیں‪ ،‬اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں‪ ،‬اخس گناہ کو بھول جائیں جو‬ ‫اخنہوں نے کیا تھا‪ ،‬اور اخس نے اخن کی سزا کے ُیال میں اخسے مزید یاد نہ دلیا۔‬ ‫‪ 6‬پھر‪ ،‬باغ کے جنوبی حصے تک‪ُ ،‬دا آدم کو وہاں رہنے دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ جب ہوا شمال کی طرف سے چلتی تھی تو‬ ‫اسے جنوبی طرف باغ کے درُتوں کی لذیذ مہک لتی تھی۔‬ ‫‪ 7‬ااس لیے خُدا نے آدم کو وہاں نہیں رکھا‪ ،‬کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اخن درُتوں کی ُوشبو سونگھ کر اپنی ُطا کو بھول جائے‪ ،‬اور اخس‬ ‫کے کیے کے لیے تسلی حاصل کرے‪ ،‬درُتوں کی ُوشبو سے ُوش ہو جائے‪ ،‬اور اخس کی ُطا سے پاک نہ ہو۔‬ ‫‪8‬پھر بھی‪ ،‬کیونکہ خُدا مہربان اور بڑا رحم کرنے وال ہے‪ ،‬اور ہر چیز پر ااس طرح حکومت کرتا ہے جس طرح وہ اکیل جانتا ہے ‪-‬‬ ‫اخس نے ہمارے باپ آدم کو باغ کی مغربی سرحد میں بسایا‪ ،‬کیونکہ اخس طرف زمین بہت وسیع ہے۔‬ ‫‪ 9‬اور خُدا نے اخسے وہاں چٹان کے غار میں رہنے کا حکم دیا یعنی باغ کے نیچے ُزانے کی غار۔‬ ‫باب ‪2‬‬ ‫‪ 1‬لیکن جب ہمارے باپ آدم اور حوا باغ سے باہر نکلے تو انہوں نے اپنے پاؤں پر زمین روند دی‪ ،‬یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ روند‬ ‫رہے ہیں۔‬ ‫‪ 2‬اور جب وہ باغ کے پھاٹک کے کھلنے کے پاس پہنچے اور اپنے سامنے پھیلی ہوئی زمین کو دیکھا جو بڑے اور چھوٹے پتھروں‬ ‫اور ریت سے ڈھکی ہوئی تھی تو وہ ڈرے اور کانپے اور اپنے منہ کے بل گرے اس ُوف سے جو ان پر آیا تھا۔ اور وہ مر چکے‬ ‫تھے۔‬ ‫‪3‬کیونکہ وہ اب تک باغیچے کی سرزمین میں تھے‪ ،‬جس میں ہر طرح کے درُت ُوبصورتی سے لگائے گئے تھے‪ ،‬اب انہوں نے‬ ‫اپنے آپ کو ایک اجنبی سرزمین میں دیکھا‪ ،‬جسے وہ نہ جانتے تھے اور نہ کبھی دیکھا تھا۔‬ ‫‪ 4‬اور کیونکہ اخس وقت وہ ایک روشن فطرت کے فضل سے معمور تھے اور اخن کے دل دنیوی چیزوں کی طرف متوجہ نہیں تھے۔‬ ‫‪ 5‬اس لیے ُدا کو ان پر ترس آیا۔ اور جب اخس نے اخنہیں باغ کے دروازے کے سامنے گرتے دیکھا‪ ،‬تو اخس نے باپ آدم اور حوا کے‬ ‫پاس اپنا کلم بھیجا‪ ،‬اور اخنہیں اخن کی گرتی ہوئی حالت سے اخٹھایا۔‬ ‫باب ‪3‬‬ ‫‪ُ 1‬دا نے آدم سے کہا‪" ،‬میں نے اس زمین پر دن اور سال مقرر کیے ہیں‪ ،‬اور تو اور تیری نسل اس میں رہیں گے اور چلیں گے‪ ،‬جب‬ ‫تک کہ دن اور سال پورے نہ ہو جائیں؛ جب میں وہ کلم بھیجوں گا جس نے تجھے پیدا کیا‪ ،‬اور جس کے ُلف تو نے سرکشی کی‪ ،‬وہ‬ ‫کلم جس نے تجھے باغ سے نکال اور جس نے تجھے زندہ کیا جب تو گرا ہوا تھا۔‬ ‫‪ 2‬ہاں‪ ،‬وہ کلم جو ساڑھے پانچ دن پورے ہونے پر آپ کو دوبارہ بچائے گا۔"‬ ‫خ‬ ‫سنیں‪ ،‬اور اخن کے ساڑھے پانچ دن کے بارے میں‪ ،‬ان کا مطلب نہ سمجھا۔‬ ‫‪ 3‬لیکن جب آدم نے یہ باتیں خُدا کی طرف سے خ‬ ‫‪ 4‬اکیخونکہ آدم سوچ رہا تھا کہ اخس کے الئے دخنیا کے ُاتمے تک صرف ساڑھے پانچ دان باقی رہ جائیں گے۔‬ ‫‪ 5‬اور آدم نے رو کر ُدا سے دعا کی کہ وہ اسے سمجھائے۔‬ ‫خ‬ ‫‪ 6‬پھر خُدا نے آدم کے لیے اپنی رحمت میں جو اخس کی اپنی شبیہ اور تشبیہ کے بعد بنایا گیا تھا‪ ،‬اسے سمجھایا کہ یہ ‪ 5000‬اور ‪500‬‬ ‫سال تھے۔ اور پھر کیسے کوئی آئے گا اور اسے اور اس کی نسل کو بچائے گا۔‬ ‫خ‬ ‫‪ 7‬لیکن خُدا نے ااس سے پہلے ہمارے باپ آدم کے ساتھ ااسی شرائط میں یہ عہد باندھا تھا‪ ،‬جب وہ باغ سے باہر آیا تھا‪ ،‬جب وہ اس‬ ‫درُت کے پاس تھا جس کا پھل حوا نے لیا اور اخسے کھانے کو دیا۔‬ ‫خ‬ ‫‪ 8‬جب ہمارے باپ آدم باغ سے نکلے تو وہ اخس درُت کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ کس طرح ا نے اس کی شکل کو بدل کر‬ ‫دوسری شکل دی اور وہ کیسے سوکھ گیا۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook